دارفور میں خسرہ کی تباہی، بچوں کی اموات میں خطرناک اضافہ

اسپتالوں میں نہ تو ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ ڈاکٹر، کیونکہ بیشتر طبی عملہ علاقہ چھوڑ چکا ہے

سوڈان کے خطے دارفور میں جاری جنگ اور طبی سہولیات کی شدید کمی کے باعث خسرہ کی خطرناک وبا پھیل گئی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مشرقی دارفور کے علاقے لابادو میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خسرہ سے کم از کم 70 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 1000 متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرین میں زیادہ تر کم عمر بچے شامل ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ اسپتالوں میں نہ تو ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ ڈاکٹر، کیونکہ بیشتر طبی عملہ علاقہ چھوڑ چکا ہے۔ کئی خاندان مجبوری میں ہمسایہ ممالک جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کا رخ کر رہے ہیں۔

مقامی بحران یونٹ کے مطابق خسرہ کی وبا مارچ سے پھیلنا شروع ہوئی، تاہم ویکسین کی فراہمی میں تاخیر کے باعث صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ یونیسیف کے ذریعے ویکسین 11 اپریل کو پہنچی، جس کے بعد محدود پیمانے پر مہم شروع کی گئی۔

طبی ماہرین کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر کمزور اور غذائی قلت کا شکار بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں، تاہم بروقت ویکسینیشن اور طبی نگہداشت سے اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، جس کے باعث غریب افراد علاج کرانے سے قاصر ہیں۔ کئی علاقوں میں لوگ گھریلو ٹوٹکوں سے علاج کرنے پر مجبور ہیں، جو اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد اور طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Load Next Story