جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن کے تبادلے کردیے گئے
جوڈیشل کمیشن اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ہائی کورٹ ججز کے تبادلے پر غور کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔
اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ کثرت رائے سے کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابر ستار کا پشاور ہائی کورٹ تبادلہ کردیا، ان کا تبادلہ بھی اکثریت سے کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن نے جسٹس ثمن رفت امتیاز کی سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی، جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلے کا فیصلہ اکثریت سے کیا گیا۔
اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلے کی سفارش واپس لے لی۔
ججز ٹرانسفر کی مخالفت میں چیف جسٹس اور پی ٹی آئی سمیت چار ووٹ پڑے
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر کی مخالفت میں ووٹ دیا، جسٹس منیب اختر نے بھی ججز ٹرانسفر کی مخالفت میں ووٹ دیا، بیرسٹر گوہر اور سینیٹر علی ظفر نے بھی ججز ٹرانسفر کی مخالفت میں ووٹ دیا، جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز ٹرانسفر کی مخالفت میں 4 ووٹ پڑے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفت امتیاز ہائی کورٹ سے روانہ ہوگئیں، جسٹس ثمن رفعت نے اپنا ذاتی سامان چیمبر سے پہلے ہی گھر منتقل کردیا تھا، انہوں نے اپنے عملے سے آخری ملاقات کی اور کہا کہ آپ سب کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔
اسی طرح جسٹس محسن بھی گھر روانہ ہوگئے، ذرائع کے مطابق وہ اجلاس کے دوران ہی گھر روانہ ہوگئے تھے۔
ججز کی نئی سینیارٹی لسٹ
جسٹس محسن اختر کیانی تبادلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے ججز میں 12 ویں نمبر پر ہوں گے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینئر ترین جج تھے۔
جسٹس بابر ستار تبادلے کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے نمبر پر ہوں گے، جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی میں تیسرے نمبر تھے، جسٹس ثمن رفعت امتیاز تبادلے کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں 16 ویں نمبر پر ہوں گے، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر تھیں۔
ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے، بیرسٹر علی ظفر
اجلاس میں شرکت کے لیے ممبر جوڈیشل کمیشن بیرسٹر گوہر علی خان بھی سپریم کورٹ پہنچے، پی ٹی آئی کے دونوں ممبران اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے جبکہ 27ویں ترمیم سے پہلے وہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔
اجلاس میں شرکت سے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفت گو میں سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر سے پہلے واضح رولز بننے چاہئیں اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ججز کا تبادلہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں جو مطالبات اٹھائے ہیں وہ درست ہیں اور ججز ٹرانسفر کے لیے شفاف اور مضبوط بنیادیں ضروری ہیں۔
انہوں نے صحافی کے سوال پر کہا کہ پی ٹی آئی اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی ایک ہی مؤقف پر ہیں، علی ظفر نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے موقف کے ساتھ ہیں کہ اس معاملے میں اصولی طریقہ اپنایا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی جب کہ ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے ٹرانسفر کے معاملے پر انہیں ذاتی طور پر سنے جانے کی استدعا کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر کے معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل کمیشن کے اجلاس میں انہیں سنا جائے۔ واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار کا نام بھی آج ٹرانسفر کے لیے زیر غور ججز میں شامل ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ٹرانسفر ججز کے لیے اجلاس بلانے کی مخالفت کی تھی تاہم چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ممبران کی ریکوزیشن پر یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا اعلامیہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جوڈیشل کمیشن کے اس اہم اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں پر غور ہوا، چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس ہوا، آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت تبادلوں کی تجاویز زیر بحث آئیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائی کورٹ تبادلہ منظور ہوگیا ہے، جسٹس بابر ستار کا پشاور ہائی کورٹ تبادلہ منظور ہوگیا اسی طرح جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائی کورٹ تبادلہ منظور ہوگیا ہے جب کہ دو ججوں کے تبادلوں کی درخواستیں واپس لے لی گئی ہیں۔
اجلاس میں متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی، خالی ہونے والی آسامیوں کو صرف تبادلوں سے پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تبادلوں سے پیدا اسامیاں نئی تقرری کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔