ٹرمپ ایرانی تجاویز سے غیر مطمئن، ایران کا نئی ترمیم شدہ تجاویز کیلئے سپریم لیڈر سے مشاورت کا فیصلہ  

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ مذاکرات سے متعلق نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے ایک نئے تجویز پر غور کیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش شامل ہے، بشرطیکہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس تجویز کی مکمل تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور جلد از جلد آبنائے ہرمز کھولنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ اس پیشکش سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی پیشکش کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ایران اس سے قبل بارہا جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم کی تردید کرتا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے نظر ثانی شدہ تجاویز  پر سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن مانگ لیے اور امریکی اخبار کے مطابق ایران نے ثالثوں کو بتایا کہ سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے  چند دن درکار ہیں۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت دی ہے، تاکہ تہران کو یورینیم افزودگی روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک اب بھی جنگی صورتحال میں ہے اور دشمن کی کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا عمل پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

 

Load Next Story