سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت سے بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے کی تاریخ مانگ لی

سابق ٹھیکدار کی درخواست پر سماعت، کسی لاٹ 2 کا ٹھیکہ اب تک آلاٹ نہیں ہوا، عدالت کی تاخیر پر کمیشن بنانے کی سفارش

—فائل فوٹو

سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت سے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے کی تاریخ مانگ لی جبکہ انکشاف ہوا کہ لاٹ 2 کا کنٹریکٹ تاحال کسی کو نہیں دیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کی سائٹ سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں ایڈوکیٹ جنرل سندھ پیش ہوئے۔

یہ درخواست سابق کمپنی کے ٹھیکدار نے جمع کرائی ہے جس میں گزشتہ سماعت پر انکشاف ہوا تھا کہ منصوبہ تاخیر سے حوالے کیا گیا جبکہ ڈیزائن ڈھائی سال بعد ملا تھا۔

سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ لاٹ ٹو کنٹریکٹ تاحال کسی کو آلاٹ نہیں کیا گیا۔ اس پر عدالت نے سندھ حکومت سے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ مکمل ہونے کی تاریخ مانگی اور منصوبے میں تاخیر پر کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سائٹ پر موجود سامان کی انوینٹری مکمل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگے گا، سائٹ پر چھ چھ کنٹریکٹرز دندناتے پھر رہے ہیں پتہ نہیں کس کس کو کنٹریکٹ دیا جارہا ہے۔

اس پر جسٹس سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ دندناتے پھر رہے ہیں کیا مطلب ننگے پاؤں پھر رہے ہیں؟ جواب دیتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ قانون بتائیں کس قانون کے تحت پولیس اور مختیار کار نے سائٹ سیل کی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل روسٹروم پر آئے اور عدالت کو بتدیا کہ جہاں پر کنٹریکٹر کا دفتر بنا ہوا ہے وہ جگہ کے ایم سی کی ملکیت ہے۔ اس پر ٹرانس کراچی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ بہت ہی متنازع معاملہ ہے اس پر آربیٹریشن چل رہی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ابھی بھی لاٹ ٹو کی سائٹ کنٹریکٹر کے پاس ہے، لاٹ ٹو کا کنٹریکٹ نوٹس پیریڈ ختم ہونے بعد کسی اور کو دیا جائے گا، فی الحال لاٹ ٹو پر ڈرینج اور سڑک کی بحالی کا کام ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ صلاح الدین احمد نے کہا کہ میڈیا میں دیکھیں لوگ وہاں کام کررہے ہیں میئر ،وزراء کہہ رہے ہیں کہ کنٹریکٹ ختم کردیا ہے ایف ڈبلیو کو بھی لے آئے ہیں۔

اس جر جسٹس نثار احمد نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ شہر کی مرکزی سڑک ہے شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے، اگر کہیں اور یہ کنٹریکٹ ہوتا تو کب کا ختم ہوچکا ہوتا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے 16 اسٹیشنز بننے تھے 20 اپریل کو صرف ایک اسٹیشن کا ڈیزائن دیا گیا، 15 اسٹیشنز کا ڈیزائن آج تک نہیں ملا ہے، سائٹ سے یوٹیلیٹیز کلیئر کراکے کنٹریکٹر کے حوالے کرنے تھیں جو 30 ماہ بعد حوالے کی گئی ہے تاہم یوٹیلیٹیز اب موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین ارب روپے نہیں جو دینے تھے وہ دیئے نہیں اور کہتے ہیں راتوں رات پروجیکٹ بن جائے، انہوں نے کسی اور کو پروجیکٹ دینا ہے اور دے بھی دیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کنٹریکٹ ختم کرنے کے لیے 14 دن کا ٹائم دینا تھا، یہ معاملہ عوامی مفاد کا بھی ہے۔ اگر معاہدہ زبردستی درمیان میں ہی ختم کردیا جائے گا تو ریکوڈیک کی طرح کنٹریکٹر اضافی رقم کا دعویٰ کرے گا اور وہ اضافی رقم وزیر اعلیٰ سندھ کی جیب کے بجائے قومی خزانے سے جائے گی۔

جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ دنیا میں اس طرح کا کنٹریکٹ کہیں نہیں ہوتا۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پوری دنیا میں اسی طرح کا کنٹریکٹ ہوتا ہے، سنگاپور،چین وغیرہ سب جگہ ایسا ہی ہے، ہمیں واضح طور پر بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت سائٹ سیل کی گئی ہے۔

اس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے سائٹ آفس سیل کرنے پر جواب جمع کرانے کیلیے مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کا جواب آنے دیں، ڈی سیلڈ کا معاملہ بعد میں دیکھ لیں۔

وکیل ٹرانس کراچی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے 470 ملین روپے کی مشنری کی انوینٹری دی ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ایک سیلڈ پراپرٹی پر دوسرے کنٹریکٹر کیسے وہاں گھوم رہے ہیں ؟۔ سائٹ کو کورٹ کی تحویل میں رکھا جائے جب تک ناظر کام کررہا ہے۔

اس پر ایڈکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ لاکھوں لوگ وہاں سے روز گزرتے ہیں اسپتال ہیں ، یونیورسٹیز ہیں اس وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔ 

جسٹس سلیم جیسر نے کنٹریکٹ کے وکیل سے سوال کیا کہ اہم بات یہ ہے کہ ٹائم پر کام کیوں نہیں کیا ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جب گورنمنٹ سندھ اپنے مسلح افراد کے ساتھ آتی ہے تو کنٹریکٹ کہاں جائے گا۔

ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سی ای او ٹرانس کراچی کے مطابق ریڈ لائن منصوبہ 2028 میں مکمل ہوگا۔ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ تاخیر کس کی وجہ سے ہوئی ہے اس پر کمیشن بنادیں۔

جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ سے پورے شہر کے معمولات زندگی متاثر ہیں۔ متاثر تو عوام ہورہی ہے آپ لوگوں کا کیا ہے۔ یونیورسٹی روڈ کے ارد گرد رہنے والے بلکہ پورا شہر اس سے متاثر ہورہا ہے۔

اس پر ٹھیکیدار کے وکیل نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ ایک دستاویز دیکھا دیں کہ پروجیکٹ میں تاخیر ہماری وجہ سے ہوئی ہے۔ جٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارس دیے کہ ہم تو چاہتے ہیں اس معاملہ پر کمیشن بنایا جائے، ہمیں آپ کے معاہدے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ہمیں سڑک چاہیے۔

جسٹس نثار احمد نے کہا کہ اتنا وقت ہوگیا یونیورسٹی روڈ کی وجہ سے شاہراہِ فیصل اور شاہراہِ پاکستان پر بھی ٹریفک کے مسائل ہوتے ہیں۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے یونیورسٹی روڈ مکمل ہونے کی تاریخ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت پر تاریخ بتائی جائے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ٹرانس کراچی کے وکیل کی استدعا پر سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی۔

متعلقہ

Load Next Story