سی سی پی نے پی آئی اے کے حصص عارف حبیب کنسورشیم کو دینے کی منظوری دیدی

میسرز پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کو یہ منظوری کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت فیز ون مسابقتی جائزے کے بعد دی گئی


بزنس رپورٹر April 29, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے حصص کے مجوزہ حصول کی منظوری دے دی۔

سی سی پی کے مطابق میسرز پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کو یہ منظوری کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت فیز ون مسابقتی جائزے کے بعد دی گئی۔

پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ ایک اسپیشل پرپز وہیکل ہے جو عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، لیک سٹی ہولڈنگز، سٹی اسکولز اور اے کے ڈی گروپ پر مشتمل کنسورشیم نے قائم کی ہے۔

یہ کنسورشیم نجکاری کمیشن کے زیر نگرانی مسابقتی عمل میں کامیاب بولی دہندہ قرار پایا کمیشن کے جائزے میں ملکی و بین الاقوامی مسافر ہوائی سفر، کارگو سروسز، ڈاک کی ترسیل، ایئرکرافٹ انجینئرنگ، مینٹیننس، اوورہال اور ایوی ایشن ٹریننگ سے متعلق مارکیٹس کا احاطہ کیا گیا۔

سی سی پی کے مطابق بین الاقوامی روٹس پر امارات، قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز سمیت عالمی ایئر لائنز کی مضبوط موجودگی ہے، جبکہ ملکی سطح پر ایئر بلیو، ایئر سیال، فلائی جناح اور سیرین ایئر اہم روٹس پر متبادل سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

سی سی پی نے قرار دیا کہ پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر گزشتہ برسوں میں آپریشنل مسائل کے باعث کم ہوا ہے جو شعبے میں موجود مسابقتی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ لین دین کانگلومریٹ مرجر ہے کیونکہ خریدار کنسورشیم پی آئی اے کے متعلقہ کاروباری شعبوں میں سرگرم نہیں، اس لیے اس میں افقی یا عمودی اوورلیپ موجود نہیں۔

کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ حصول کسی متعلقہ مارکیٹ میں غالب حیثیت پیدا یا مضبوط نہیں کرے گا اور نہ ہی مسابقت میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا، اس لیے لین دین کی منظوری دے دی گئی ہے۔

سی سی پی کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری سے آپریشنل کارکردگی، سروس کے معیار اور ہوابازی کے شعبے میں مسابقت بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ حکومتی مالی بوجھ میں بھی کمی آئے گی۔

کمیشن نے واضح کیا کہ یہ منظوری صرف مسابقتی پہلو تک محدود ہے اور لین دین دیگر متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری تقاضوں کے تابع رہے گا۔