قائم مقام صدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلے کی منظوری دے دی، نوٹیفکیشن جاری
فوٹو: فائل
قائم مقام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی تبادلے کی منظوری دے دی اور وزارت قانون و انصاف نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
قائم مقام صدر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کی شق 200 کی ذیلی شق ون کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کے لیے وزیراعظم کی سفارش کی سمری کے پیرا 7 کی منظوری دی جاتی ہے۔
وفاق وزارت قانون و انصاف نے قائم مقام صدر کی منظوری کے بعد تینوں ججوں کے تبادلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارش پر آئین پاکستان کے آرٹیکل 200 کی ذیلی شق ون کے تحت جسٹس محسن اختر کیانی کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ تینوں ججوں کے تبادلے کی منظوری دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں دیگر دو ججوں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے تبادلے کی سفارش واپس لے لی تھی۔
ججز کی نئی سینیارٹی لسٹ
جسٹس محسن اختر کیانی تبادلے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں سینیارٹی میں 12 ویں نمبر پر ہوں گے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں وہ سینئر ترین جج تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود جسٹس بابر ستار پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے نمبر پر ہوں گے جبکہ جسٹس ثمن رفعت سندھ ہائی کورٹ میں سینیارٹی کی فہرست میں 16 ویں نمبر پر ہوں گی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں ان کا نمبر 6 تھا۔