مقدمہ ابنِ خلدون

جب اسپین میں مسلمان حکومت کو زوال آیا تو یہ خاندان اسپین سے ہجرت کر کے تیونس چلا آیا۔

علامہ محمد اقبال نے اپنی ایک تحریر میں زور دے کر کہا ہے کہ ابن خلدون کی Science of Civilizationکا مقدمہ پڑھا جائے۔وہ اس کے مضامین سے خاصے متاثر تھے۔ان کے کئی اشعار کا مواد اسی مقدمہ کے Contentسے لیا گیا ہے۔ابنِ خلدون کا پورا نام عبدالرحمٰن ابن محمد ابنِ خلدون تھا۔وہ 27مئی 1332عیسوی میں تیونس میں پیدا ہوئے۔ان کا خاندان آسودہ حال،پڑھا لکھا اور Aristocraticتھا۔جب اسپین میں مسلمان حکومت کو زوال آیا تو یہ خاندان اسپین سے ہجرت کر کے تیونس چلا آیا۔ابنِ خلدون کا گھرانہ ایک سیاسی گھرانہ تھا۔سیاست کے ساتھ ساتھ یہ خاندان پڑھنے لکھنے کا بہت شوقین تھا۔

علم و آگہی کے حصول کے لیے بہت تگ و دو کرنے والا تھا۔ابنِ خلدون نے روایت کے مطابق اپنے علمی سفر کا آغاز اپنے والد سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے سے کیا۔ وہ زندگی بھر قرآن کی تعلیم حاصل کرنے میں کوشاں رہا ۔اس نے قرآن کے ساتھ اسلامک جیورس پروڈنس ،عرب ادب و گرامر،فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ابنِ خلدون کا شمار قرونِ وسطٰی کے بے حد ذہین لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔

ابنِ خلدون نے اپنی تحریروں سے تاریخ کے مطالعے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرونِ وسطٰی کے ادب پر اس کی گہری چھاپ ہے۔ابنِ خلدون نے تاریخ کو سائنسی اور عقلی زاویوں سے پرکھنے اور لکھنے کی طرح ڈالی۔ وہ ماڈرن سوشیالوجی کے بانیوں میں سے تھے۔وہ جدید معاشیات کے بھی اولین اساتذہ میں سے تھے۔

اس بڑے ذہن کے فرد نے تیونس، الجزائر، مراکو اور اسپین کے حکمرانوں کے درباروں میں کام کیا۔مراکو میں اسے محلاتی سازشیں کرنے کے الزام میں قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔وہ ایک ملک کے سب سے موئثر وزیر اور ایک ملک کے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس رہے۔مصر میں جب چیف جسٹس تھے،امیر تیمور نے دمشق کا محاصرہ کر لیا۔ابنِ خلدون دمشق پہنچ کر امیر تیمور سے ملے اور اسے دمشق کو تاراج کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔بڑے عہدوں پر کام کرتے ہوئے اس کو سیاست،طاقت اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کرنے کا خوب موقع ملا۔سالوں کی ملازمت کے بعد اس نے سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور 1375 عیسوی میں تاریخ پر کام کرنا شروع کیا۔

اس نے اپنی کتاب مقدمہ فی التاریخ لکھی تو Science of Civilizationکے پیش لفظ کے طور پر تھی لیکن بعد میں یہی کتاب یعنی مقدمہ دنیا کی بہترین کتابوں میں شمار ہونے اور الگ سے پڑھی جانے لگی۔اس نے لکھا کہ تمام تہذیبیں کم و بیش چار ادوار سے گزرتی ہیں۔پہلا دور اُٹھان کا ہوتا ہے جس میں ابھرنے والی قوم کے اندر اتحاد،یگانگت اور ڈسپلن ہوتا ہے اور اس طرح قوم مضبوط اور طاقت ور بن جاتی ہے۔دوسرا دور گروتھ یعنی بڑھتی پیداوار کا ہوتا ہے۔اس دور میں قوم خوش حال،مالدار بنتی ہے اور آس پاس کے علاقوں پر چڑھ دوڑتی ہے۔قوم کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔تیسرا دور نیچے اترنے یعنی زوال کا ہوتا ہے۔عیش و عشرت اور کرپشن جڑ پکڑ لیتی ہے۔

قوم کے اندر اچھی لیڈرشپ مفقود ہو جاتی ہے اور تب آخری دور دھڑام سے گرنے کا آتا ہے،جب وہی پھلتی پھولتی،مضبوط اور طاقتور قوم ایک کمزور دیوار کی طرح ہو جاتی ہے۔ابن خلدون سے پہلے تاریخ محض کہانیوں کا ایک مجموعہ ہوتی تھی۔کہانی سنائی جاتی تھی کہ فلاں بادشاہ تھا اس نے فلاں کے خلاف چڑھائی کی،فلاں جنگ لڑی یا پھر یہ کہ اس نے فلاں کام کیا۔ ابن خلدون نے کہا کہ یہ کافی نہیں۔جناب ابنِ خلدون نے تاریخ کے قوانین مرتب کیے اور اسے قصے کہانیوں سے نکال کر ایک سائنس بنا دیا۔اس نے اپنی اس معرکۃ الآرا تصنیف کو Science of Civilization کا نام دیا۔آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخر ابنِ خلدون کی یہ انقلابی سائنس کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے۔وہ پہلے اپنے دور تک تاریخ لکھنے والوں کی ناقص Approachکو سامنے لاتا ہے۔ایسا کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں ،اپنے پیش روؤں کی کمزوریوں سے آگاہی حاصل کرنا بہت بڑا کام ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر تاریخ لکھنے والے سنی سنائی باتوں کو بغیر سوچے سمجھے، تصدیق کیے اور تنقید بھری نظروں سے جانچے بغیر یونہی رقم کر دیتے ہیں۔یہ تاریخ لکھنے کا صحیح طریقہ نہیں۔وہ مثال دیتے ہیں کہ مشہور مورخ مسعودی نے لکھا ہے کہ سیدنا موسیٰؑ نے صحرا میںاپنی فوج کا شمار کیا تو دیکھاکہ ان کے پاس چھ لاکھ افراد پر مشتمل فوج ہے۔ابنِ خلدون کہتے ہیں کہ اگر بغور تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو ذرا بعد کے زمانے کی دو سپر پاورز یعنی روم اور فارس کی سلطنتوں کے پاس بھی اتنی فوج نہیں تھی۔یہ دونوں سلطنتیں پوری کوشش کر کے بھی اتنی بڑی فوج کھڑی نہیں کر سکتی تھیں۔ابنِ خلدون پھر لاجسٹکس کا بھی سوال اٹھاتے ہیں۔

وہ پوچھتے ہیں کہ اتنی بڑی فوج کو منظم کرنے کے لیے کتنی بڑی چھاؤنی درکار تھی۔ان کے خیال میں اتنی بڑی فوج مصر و شام میں کسی میدان میں بھی سما نہیں سکتی تھی۔ اور اتنی بڑی فوج کے لیے کھانے پینے،سواریوں اور ہتھیاروں کا مہیا کرنا صرف کٹھن ہی نہیں بلکہ بہت دور کی بات تھی۔یہ جغرافیائی اور منطقی طور پر نا ممکن تھا۔اسی طرح وہ یمن کے تبع بادشاہوں کی مثال سامنے لاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے چین اور افریقہ پر حملے کیے۔ابنِ خلدون کہتے ہیں کہ یمن اور چین کے درمیان بڑی بڑی سلطنتیں تھیں اور راستے میں سمندر اور عظیم پہاڑ حائل تھے۔ راستے کی سلطنتوں کو زیر کرنا اور سمندروں و پہاڑوں کو عبور کرنا بہت ہی مشکل کام تھا۔اسی طرح افریقہ پر حملے کے لیے بہت بڑے بحری بیڑے کی ضرورت تھی جو یمن کے بادشاہوں کے پاس تاریخ میں نظر نہیں آتا۔وہ مشہور عباسی خلیفہ ہارون رشید کے دور میں برمکی خاندان کے طاقتور وزیروں کی بات کرتے ہیں۔

قصہ مشہورہے کہ ہارون رشید نے اپنی بہن کی شادی اپنے دوست جعفر برمکی سے اس شرط پر کی کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کریں گے لیکن شادی کے بعد ایسا نہیں ہوا۔خلیفہ ہارون رشید اس پر بہت ناراض ہوا اور اس نے غصے میں آ کر پورے برمکی خاندان کو تباہ کر دیا۔ابنِ خلدون کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ڈرامائی کہانی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اصل میں وجہ صاف صاف سیاسی تھی۔ابنِ خلدون کے مطابق دراصل برمکی خاندان اتنا بارسوخ اور طاقتور ہو گیا تھا کہ خود خلیفہ کے اقتدار کے لیے خطرہ تھا۔اس لیے خلیفہ نے انھیں اپنے راستے سے ہٹا دیا۔

Load Next Story