نظیر اکبر آبادی

نظیر اکبر آبادی اردو شاعری کی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام رکھتے ہیں۔

نظیر اکبر آبادی اردو شاعری کی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام رکھتے ہیں۔ جنھیں بلا شبہ ’’اردو کا پہلا عوامی شاعر‘‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے روایتی درباری شاعری اور غزل سے ہٹ کر زندگی کے عام رنگوں اور عوامی موضوعات کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ عام آدمی کے جذبات و احساسات کو شاعری کا موضوع بنایا۔ نظیر اکبر آبادی کا اصل نام ولی محمد تھا، وہ 1735 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔

یہ محمد شاہ ثانی کا دور تھا۔ دہلی کی تباہی یعنی نادر شاہ کے حملے کے بعد جب وہ چار سال کے تھے تو ان کی والدہ انھیں لے کر اکبر آباد (موجودہ آگرہ) آ گئیں، جہاں انھوں نے باقی زندگی گزاری۔ انھوں نے تعلیم و تربیت اکبر آباد ہی میں حاصل کی۔ نظیر فارسی، عربی، اردو، ہندی اور پنجابی زبانیں جانتے تھے لیکن ان کا دستیاب کلام صرف اردو میں ہے،مشغلہ درس و تدریس تھا۔

بڑے بڑے لوگوں کے صاحبزادوں کو فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے تہواروں میں حصہ لیتے تھے، یہ گنگا جمنی تہذیب کا حسن تھا۔ اس مشاہدے نے نظیر کے کلام میں غیر معمولی وسعت اور رنگا رنگی پیدا کی۔ انھوں نے دہلوی انداز میں غزلیں بھی کہی ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ نظم کے شاعر ہیں اور یہی ان کی پہچان بن گئی۔ ان کی نظموں میں مسلم روایات اور تہواروں کا ذکر ملتا ہے۔ عید، بقر عید، شب برات کے علاوہ ہولی، دیوالی وغیرہ پر بھی نظمیں ملتی ہیں۔ عوامی مسائل پر ان کی نظمیں بہت خوب ہیں۔ فلسفیانہ موضوعات پر ان کی نظمیں بہت مقبول ہیں۔

جس نیچرل شاعری کی بنیاد آزاد اور حالی نے ڈالی تھی، اس کے موجود نظیر ہی ہیں، انھوں نے اپنی نظموں میں فلسفیانہ خیالات کو جگہ دی ہے۔ ان کی اخلاقی اور فلسفیانہ نظموں میں بنجارہ نامہ، روٹی نامہ، آدمی نامہ، مفلسی وغیرہ بہت مقبول ہیں۔ ان کی شاعری کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے لفظی صناعی کے بجائے خیال اور جذبے کو شاعری کا معیار قرار دیا۔ نظیر میر و سودا کے ہم عصر ہیں۔ ان کی نظم ’’روٹی نامہ‘‘ کے چند اشعار دیکھیے۔

 پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے

یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کس لیے

وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے

بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں

’’بنجارہ نامہ‘‘ دنیا کی بے ثباتی پر ایک خوب صورت نظم ہے۔ ایک ایک مصرعہ سچائی پر مبنی ہے۔ ہر شعر دلوں کو چھو لیتا ہے۔

ایک اور نظم ہے ان کی ’’پیسے کی فلاسفی‘‘ جو اردو شاعری کی بہترین مثال ہے۔ نظیر نے اس میں پیسے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ معاشرتی اثرات اور انسانی رویوں پر اس کے غلبے کو نہایت آسان اور سادہ زبان میں بیان کیا ہے۔

پیسہ ہو تو بنتی ہے ہر ایک بات جہاں میں

پیسہ نہ ہو تو آدمی کچھ بھی نہیں جہاں میں

پیسہ امیر کو بھی بنائے امیر تر

پیسہ غریب کو کرے محتاج در بدر

پیسے ہی سے شیخ و برہمن کی شان بھی

پیسے ہی سے ہے واعظ و پنڈت کی آن بھی

ایک اور نظم ’’مفلسی کی فلاسفی‘‘ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی

کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی

پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی

بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی

یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی

’’بنجارہ نامہ‘‘ کے اشعار دیکھیے۔

ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں کیوں دیس بہ دیس پھرے مارا

قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ

کیا گیہوں چاول، موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارہ

سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گرائے گا

دھن دولت ناتی پوتا کیا، اک کنبہ کام نہ آوے گا

نظیر نے بنجارہ نامہ میں موت کی حقیقت بتائی ہے۔ جب کچھ بھی کام نہ آئے گا، دنیا اک عارضی ٹھکانہ ہے، انسان کچھ بھی کر لے موت کے فرشتے سے ملاقات لازمی ہے۔ اجل کو نظیر نے موت کا قزاق کہا ہے جو سب کچھ لوٹ کر لے جاتا ہے۔

  گر تُو ہے لکھی بنجارہ اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے

اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے

سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

نظیر سے پہلے اردو شاعری صرف غزل کے گرد گھومتی تھی، ایسے میں ایک ایسا شاعر جو بنیادی طور پر نظم کا شاعر ہے۔ نظیر نے دہلوی رنگ میں غزلیں بھی کہی ہیں۔

مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیں

جی میں آتا ہے لگا دیں آگ میخانے کو ہم

٭…٭

کہا جو ہم نے در سے کیوں اٹھاتے ہو

ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نا رہے

’’آدمی نامہ‘‘ نظیر کی بہت مشہور نظم ہے جس میں انسانی کردار کے مختلف پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے۔

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ابدال، قطب، غوث ولی آدمی ہوتے

منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے

حتیٰ کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور پر

خالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں

پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نماز یاں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں

جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نظیر ایک سادہ طبیعت انسان تھے، بڑے نوابوں اور رؤسا نے انھیں اپنے دربار سے منسلک ہونے کی پیش کش کی۔ وہ بہت قناعت پسند انسان تھے، انھوں نے اپنی زندگی میں اپنا کلام نہ شائع کروایا، ان کی وفات کے بعد لالہ بلاس رائے کے بیٹوں نے ان کا کلام شائع کیا، کیوں کہ نظیر ان کو فارسی اور اردو پڑھاتے تھے۔ نظیر کا پہلا دیوان 1820 میں شائع ہوا۔ ان کے شاگردوں میں بڑے بڑے امرا کے بچے شامل تھے۔

انھوں نے زندگی کے عام تجربات کو سادہ اور پرخلوص انداز میں اپنی شاعری میں جگہ دی۔ انھوں نے خواص کے بجائے عام انسانوں کی زندگی میں آنے والے حادثات و واقعات کو شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کی دیگر مشہور نظموں میں آٹے کی فلاسفی، کوڑی کی فلاسفی، آٹے دال کی فلاسفی، پیٹ کی فلاسفی براہ راست معاشی نظمیں ہیں۔نظیر اپنی طرز کے واحد شاعر تھے جنھوں نے اردو میں نظم نگاری کو موضوع بنایا۔

Load Next Story