مزدوروں کے حقوق، سماجی تحفظ اور موسمیاتی انصاف وقت کی اہم ضرورت

تمام مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں

کراچی:

عالمی یوم مزدور کے موقع پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف  لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی اور مزدوروں کے حقوق کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے  مقررین نے محنت کش طبقے پر موسمیاتی تبدیلی کے رونما ہونے والے منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی گرمی، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے زراعت، ماہی گیری، تعمیرات اور دیگر شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں پہلے سے موجود غربت اور عدم مساوات مزید بڑھ رہے ہیں۔

سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مزدوروں کے روزگار پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے منصفانہ اور جامع پالیسی تشکیل دی جائے اور تمام مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہر معاشیات قیصر  بنگالی نے کہا کہ مزدور وں کے روزگار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں یونین سازی کو مضبوط کیا جائے، اس وقت مزدوروں کا یونین بنانے کا حق عملی طور پر ختم ہوچکا ہے جس سے ان کی اجتماعی طاقت ٹوٹ گئی ہے۔

ملک میں مزدوروں کے حقوق کے لیے پہلے میڈیا میں آواز اٹھائی جاتی تھی لیکن اسے بھی کمزور کردیا گیا ہے، غیر منصفانہ قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا کا بھی گلہ گھونٹے کے اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ 26ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو بھی حکومت کے ماتحت کردیا گیا ہے۔

قیصر بنگالی نے مزدوروں کے حقوق کے لیے تمام مزدور تنظیموں کو متحد ہونے ہونے پر زور دیا اور کہا کہ ان کو منظم کرنے کے لیے پائلر جیسا پلیٹ فارم موجود ہے۔

پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائلر نے پہلے بھی تمام مزدور تنظیموں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی اور کرتی رہے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے سال یوم مئی کا پروگرام ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں کراچی کی جان لیوا گرمی میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 300 ہلاکتیں ہوئیں لیکن ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار سے زائد تھی، ان میں اکثریت مزدور طبقے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے غریب علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش کی وجہ سے مزدور طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

خواتین محنت کشوں کا ذکر کرتے ہوئے عباس حیدر نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں 30 فیصد خواتین پر مشتمل ہے لیکن وہ سماجی تحفظ کے اداروں کی سہولیات سے محروم ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین قاضی خضر نے خطاب کرتے ہوئے ولیکا اسپتال میں نوزائیدہ 78 بچوں میں ایڈز ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کا  مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں سب کے لیے یکسان حقوق اور سہولیات کی ضمانت ہے لیکن ملک میں دو کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے اور ان کی اکثریت محنت کش طبقے کے بچوں کی ہے۔یہ ہی صورتحال صحت کے حوالے سے مزدوروں کے لیے دستیاب سہولیات کی بھی ہے۔

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ خطہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، پاکستان میں 2022 کا سیلاب اس کی بڑی مثال ہے جس میں 80فیصد لوگ صوبہ سندھ کے متاثر ہوئے تھے، اس تباہی کا ذمہ دار ہمارا ملک نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک اور بڑی بڑی کمپنیاں تھیں، اس سلسلے میں معاوضہ کے لیے جرمنی میں ایک کیس چل رہا ہے۔ اس موقع پر مہناز رحمان اور سعید بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

Load Next Story