گلستان جوہر میں شیشہ کیفے پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے مسلم لیگ ن کا عہدیدار جاں بحق
گلستان جوہر میں شیشہ کیفے میں جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق گلستان جوہرکے علاقے بلاک 3 کانٹینینٹل بیکری کے قریب شیشہ کیفے میں فائرنگ سے 2 نوجوان زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک زخمی دوران علاج خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
واقعے کے بعد مشتعل افراد نے کیفے میں ہنگامہ آرائی اور تھوڑ پھوڑ کی اور گلستان جوہر تھانے کا گھیراؤ کر کے نعرے بازی کی، جاں بحق ہونے والا نوجوان مسلم لیگ ( ن ) یوتھ ونگ کا عہدیدار تھا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 22 سالہ نجیب علی ولد نیاز علی کے نام سے کی گئی، مقتول بھٹائی آباد کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق اندرون سندھ خیر پور میرس ( گمبٹ ) سے تھا جبکہ وہ ریئل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا۔ زخمی کی شناخت عدنان ولد خالد حسین کے نام سے ہوئی۔
فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ مقتول کے درجنوں رشتے دار، دوست احباب اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی اور سڑک بلاک کرکے احتجاج کیا۔
پولیس نے جھگڑے کے بعد کیفے کے منیجراورسیکیورٹی گارڈ سمیت 6 افراد کوحراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا، پولیس کے مطابق کیفے میں جھگڑا فیملی پورشن میں نوجوان کو بیٹھے سے منع کرنے پرہوا۔ واقعے کامقدمہ گلستان جوہر تھانے میں مقتول کے بھائی مبشر کی مدعیت میں درج کرلیا گیا، مقدمے میں کیفے کے منیجراورسیکیورٹی گارڈ سمیت 5 ملزمان کے علاوہ 2 سے 3 نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق چند نوجوان کیفے میں داخل ہوکرفیملی پورشن میں بیٹھ گئے تھے جس پرکیفے کی انتطامیہ نے انہیں منع کیا جس پر نوجوان واپس چلے گئے اورکچھ دیر کے بعداپنے ساتھ مزید لوگوں کو لے کر آئے اورکیفے کے عملے سے تلخ کلامی شروع کردی اوراس دوران چند مشتعل نوجوانوں نے کیفے میں داخل ہوکرسیکیورٹی گارڈ کو دھکا دیا اورسیکیورٹی گارڈ سے اسلحہ چھینے کی کوشش بھی کی۔
اسی دوران سیکیورٹی گارڈ فائرنگ کردیتا ہے اورایک شخص سیکیورٹی گارڈ کو پکڑ کراپنے ساتھ لے جاتا ہے، سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا، پولیس نے کیفے میں جھگڑے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی، پولیس نے مقدمے کے اندارج کے بعد واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
مقتول نوجوان کے اہلخانہ کے مطابق نجیب علاقہ مکینوں کے ساتھ کیفے میں علاقے کے نوجوانوں کودیکھنے گیا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا، مقتول نجیب سیاسی جماعت کے یوتھ ونگ کا بھی رکن تھا مقتول نجیب کی تدفین آبائی گاؤں میں کی جائے گی۔
مقتول کے دوست صدر یوتھ ونگ ذوہیب نے بتایا کہ مقتول کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ( ن ) یوتھ ونگ سے تھا، انہوں نے بتایا کہ علاقے کے بچے بچیاں شیشہ بار میں آتے تھے، شیشہ بار میں کیونکہ ہر قسم کی منشیات کا نشہ بھی فراہم کیا جاتا تھا اور کھلے عام نوجوان نشہ کرتے تھے اسی لیے مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ گلستان جوہر اور بھٹائی آباد کے کارکنان دیکھنے آئے تھے کہ کہیں علاقے کے بچے بچیاں تو یہاں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے نہ صرف علاقے کے لوگوں کو شیشے کیفے میں جانے سے منع کیا تھا بلکہ کیفے مالکان سے اس گھناؤنے کاروبار کو بند کرنے کا بھی کہا تھا تاہم وہ باز نہیں آئے۔
پی ایس 100 مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار توفیق احمد منگی نے بتایا کہ ہمارے دوست کے چھوٹے بھائی اکثر گھر والوں سے چھپ کر شیشہ کیفے پر آتے تھے، کچھ دوست کیفے والوں سے بات کرنے آئے تھے کہ آپ اس کیفے اور منشیات کو بند کریں جس پر پہلے سیکیورٹی گارڈ نے بدتمیزی کی، نجیب نے اسے روکنے کی کوشش کی تو شیشہ کیفے کے مالک اور اس کے بیٹے سمیت تین چار لوگوں نے پستولوں کے چیمبر کھینچ لیے اور فائرنگ کی۔
توفیق احمد منگی نے کہا کہ گولی نجیب کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ دوسرا ہمارا کارکن نوجوان نجیب کو اٹھا رہا تھا تو اسے دھکے دیے اور پیر پر ایک گولی مار دی، شیشہ کیفے کا مالک کھلے عام بول رہا تھا کہ ہم پولیس کو 3 سے 4 لاکھ روپے بھتہ دیتے ہیں، میں ایس ایس پی کا بیٹا ہوں، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
توفیق منگی نے بتایا کہ شیشے کیفے کے مالک اور اس کے ساتھیوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار فائرنگ کرکے متعدد افراد کو زخمی اور چانڈیو برادری کے جوان کو قتل کر چکا ہے، پولیس نے فائرنگ میں ملوث سیکیورٹی گارڈ اکرم ، کیفے کے منیجر سمیت تین افراد کو اسلحہ سمیت حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔