معرکہ حق کے ہیروز محمد عمران اور شفیق الرحمان کی داستان
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والوں نے اپنے تاثرات پیش کیے ہیں۔
نائب صوبیدار محمد عمران نے بتایا کہ وہ معرکہ حق کے دوران زیرو لائن پر پوسٹ کمانڈر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے، انہوں نے تہیہ کیا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری زبردست فائرنگ سے دشمن کا برا حال ہوگیا، دشمن کا مورال گر گیا اور اسے جوابی فائر کرنے کی بھی ہمت نہ رہی۔
محمد عمران نے بتایا کہ اس دوران دشمن کے آرٹلری فائر سے میں زخمی ہو گیا، میں اس قدر پرجوش تھا کہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ کوئی زخم لگا ہے، میرے ساتھی نے مجھے زخم کا بتایا اور مرہم لگایا۔
معرکہ حق میں زبردست کارکردگی پر نائب صوبیدار محمد عمران کو تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔
شفیق الرحمان نے بتایا کہ وہ بھارتی گولہ باری کے دوران سول آبادی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا کام کرتے رہے، لوگوں کو کمیونٹی بنکرز میں منتقل کرنے ساتھ خوراک، پانی کا انتظام بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ وطن کی خاطر ہر مشکل میں خدمت خلق کے لیے حاضر ہوں۔