یو اے ای کی علیحدگی کے بعد اوپیک پلس تنظیم کا اہم اجلاس، کیا تیل سستا ہوگا؟
عالمی تیل تنظیم اوپیک پلس کے سات رکن ممالک آج اہم اجلاس کر رہے ہیں، جس میں تیل کی پیداوار کے نئے اہداف طے کیے جائیں گے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں اس گروپ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای، جو دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر اوپیک اور اوپیک پلس دونوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امارات نے 28 اپریل کو یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا کیونکہ وہ گروپ کی جانب سے عائد کردہ پیداوار کی حدود سے مطمئن نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق آج ہونے والے اجلاس میں شامل سات ممالک یومیہ تیل کی پیداوار میں تقریباً 188,000 بیرل اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو متوازن رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کی علیحدگی کے بعد اوپیک پلس کی پالیسیوں اور عالمی تیل کی قیمتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ یہ فیصلہ مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔