پسند کی شادی پر خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کرنے والے ملزم کی سزا سے متعلق فیصلہ محفوظ

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا لڑکی کا بیان ہے کہ اس نے شادی اپنی مرضی سے کی، ایک ملزم نے گولی ماری اور ایک نے ذبح کیا

سپریم کورٹ میں دو خواتین سمیت تین افراد کو قتل کرنے پر عمرقید کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس سنا۔

وکیل صفائی کے مطابق یہ دو خواتین اور ایک مرد کے قتل کا کیس ہے، جس میں چار ملزمان نامزد ہوئے، ایک کو پھانسی ہو چکی جبکہ تین عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اور مدعی کے ساتھ صلح نامہ بھی فائل کیا ہوا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ ایک بچی نے شادی کی لیکن سزا پورے خاندان کو دے دی گئی، وہ یتیم بچی تھی اور راضی نامہ کرنا چاہتے تھے لیکن قتل ہی کر دیا گیا، اب صلح کون کرے گا جبکہ ملزمان نے پورا خاندان ہی ذبح کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ لڑکی کا بیان ہے کہ اس نے شادی اپنی مرضی سے کی، ایک ملزم نے گولی ماری اور ایک نے ذبح کیا، اگر صلح نامہ کرنا تھا تو ٹرائل کورٹ میں دائر کرتے، ہمارے گلے کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

وکیل صفائی نے مؤقف اپنایا کہ مدعی سپریم کورٹ نہیں آئی اور عدالت راضی نامہ کی ڈائریکشن دے دے، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ راضی نامہ آپ نے کرنا ہے، ہم کیوں بلائیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ ڈیڑھ سال گزر چکا ہے، نہ بیان حلفی جمع کروایا گیا، نہ مدعی موجود ہے، نہ بائیو میٹرک، ایسے میں راضی نامہ کیسے ممکن ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت راضی نامہ منظور کریں جبکہ ایک ملزم کو سزائے موت بھی ہو چکی ہے۔

عدالت نے ملزم رمضان کی عمرقید کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ یہ واقعہ 2008 میں پیش آیا تھا جب چار ملزمان نے تین افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں سے ایک کو سزائے موت ہو چکی جبکہ دیگر تین ملزمان عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

Load Next Story