چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرموں کو 6 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ برقرار

چھوٹو گینگ علاقے کا کنگ تھا،پولیس اسٹیشن بند کر دیےگئے، یہ بادشاہ بنے ہوئے تھے، جج سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کو چھ چھ بار سزائے موت دینے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس سنا اور سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔
دوران سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی کے مقدمات کو چھوٹو گینگ کے مقدمات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ تھا، اس کی وجہ سے پولیس اسٹیشن بند کر دیے گئے تھے اور یہ اپنے علاقے میں بادشاہ بنے ہوئے تھے۔

وکیل ملزمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کا عرف بھی لکھا گیا، پولیس کو کیسے معلوم تھا، جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رائے اختر حسین نے جواب دیا کہ سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پولیس کے پاس موجود تھا۔

سماعت کے دوران بتایا گیا کہ 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا، اور جب پولیس کی گولیاں ختم ہوئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا، جبکہ ان اہلکاروں کو چھڑوانے کے لیے پاک فوج کو طلب کیا گیا۔

وکیل ملزمان نے کہا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو خراش تک نہیں آئی، جس پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ کیا اغوا ہونے والے اہلکار کسی فیسٹیول میں گئے تھے اور کہا کہ یہ تو آپ کی مہربانی ہے۔

کیس کے مطابق 2016 میں راجن پور کے تھانہ اچھ میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کی ایف آئی آر درج ہوئی، جس میں 6 اہلکاروں کو قتل، 7 کو زخمی کرنے اور 24 اہلکاروں کو 8 گھنٹے تک اغوا رکھنے کے الزامات شامل تھے، جبکہ دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

ٹرائل کورٹ نے 22 ملزمان کو سزائیں سنائیں، جن میں 20 کو سزائے موت اور 2 کو کم عمری کے باعث عمر قید دی گئی، جبکہ ہائیکورٹ نے 8 ملزمان کو شناخت پریڈ میں نقائص کی بنیاد پر بری کیا اور دیگر کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو، اسحاق اور خالد کی چھ چھ بار سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں، جبکہ دیگر مجرمان کی عمر قید کی سزائیں بھی برقرار رکھیں۔

Load Next Story