سیف سٹی کی “میرا پیارا” ٹیم نے 15 برس سے بچھڑے بیٹے کو والدین سے ملوا دیا

مارچ 2010 میں گوجرانوالہ سے لاپتہ ہونے والا بچہ رمضان بولنے اور سننے سے محروم تھا

بچھڑوں کو اپنوں سے ملوانے کا سفر “میرا پیارا” کی ایک اور شاندار کامیابی ثابت ہوا، جب سیف سٹی کی “میرا پیارا” ٹیم نے 15 برس سے بچھڑے بیٹے کو والدین سے ملوا دیا۔

مارچ 2010 میں گوجرانوالہ سے لاپتہ ہونے والا بچہ رمضان بولنے اور سننے سے محروم تھا، جسے لاہور میں لاوارث حالت میں ملنے پر فوری طور پر ایدھی سینٹر منتقل کیا گیا۔

ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی “میرا پیارا” ٹیم نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر رمضان کی ویڈیو کے ساتھ 2010 کی پرانی تصویر بھی شیئر کی گئی۔

سوشل میڈیا ڈیجیٹل مہم کی مدد سے ایک عزیز نے ویڈیو دیکھ کر فوری شناخت کر لی، جس کے بعد اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ بچہ رمضان ولد محمد اقبال ہے جو 2010 سے لاپتہ تھا۔

سیف سٹی ٹیم نے بروقت ویریفکیشن مکمل کر کے بچے کو بحفاظت خاندان کے حوالے کر دیا، اور 15 سال بعد خصوصی بیٹے کی اپنے گھر واپسی پر اہلِ خانہ جذباتی اور آبدیدہ ہو گئے۔

ترجمان سیف سٹی کے مطابق “میرا پیارا” ٹیم کی مسلسل کاوشیں گمشدہ افراد کو اپنوں سے ملانے کا ذریعہ بن رہی ہیں، جبکہ گمشدہ بچوں سے متعلق معلومات کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے 3 دبانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق سیف سٹی گمشدہ اور لاوارث افراد کو ان کے اپنوں سے ملوانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔

Load Next Story