یوکرین کا روس کی اہم آئل پورٹ پر حملہ، آگ بھڑک اٹھی
یوکرین نے روسی تیل کے اہداف کو حالیہ حملے میں نشانہ بنایا جس میں بحیرہ بالٹک میں ایک اہم لوڈنگ پورٹ اور 3 ٹینکروں پر حملہ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پورٹس کے بارے میں یوکرین کا الزام تھا کہ روسی خام تیل کی نقل و حمل کے لیے غیر قانونی طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔
روس کے علاقائی گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق یوکرینی ڈرون حملے میں بحیرہ بالٹک پر روس کی سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی بندرگاہ پرائموسک پر آگ بھڑک اٹھی۔
روس کی سرکاری آئل فرم ٹرانس نیفٹ کی طرف سے چلائی جانے والی یہ بندرگاہ روزانہ سیکڑوں ہزار بیرل ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پرائموسک جسے مارچ میں متعدد بار نشانہ بنایا گیا، یوکرین سے 1,000 کلومیٹر (620 میل) کے فاصلے پر روس اور فن لینڈ کی سرحد اور روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے درمیان واقع ہے۔
مقامی گورنر الیگزینڈر نے کہا کہ ڈرون حملے سے تیل کا اخراج نہیں ہوا تاہم دوسری جانب حملے میں کسی جانی یا مادی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔