ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی

یہاں تو چند ہزار روپے بجلی کے بل کی دو قسطیں کرانا مشکل ہے

msuherwardy@gmail.com

آج کل اسلام آباد میں ایک بلڈنگ کی کہانی زبان زد عام ہے‘ ایسا لگ رہا ہے، یہ ملک کا اہم ترین مسئلہ ہو بلکہ سلامتی کا مسئلہ ہو، ملک کی ساری سرمایہ کاری کا دارومدار اس ایشو پر آکر رک گیا ہے۔ ایک عجیب بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر یہاں کوئی ایکشن ہوا تو جیسے پاکستان کا کوئی نقصان ہو جائے گا، سرمایہ کاری اور معیشت کا استحکام اس کے ہونے یا نہ ہونے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میں اس قسم کے بیانئے سے متفق نہیں ہوں۔ میری رائے میں دھوکہ یا غلط بیانی کبھی سرمایہ کاری کی نشانی نہیں ہو سکتے ۔ بے ضابطگیوں یا غیرقانونی عمل کے خلاف قانونی کارروائی سے سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوتی بلکہ قانون کی بالادستی ملک کی بدنامی نہیں نیک نامی کا باعث ہوتی ہے۔

بہر حال سی ڈی اے نے سال 2005 میں 13.5 ایکڑ قیمتی سرکاری رقبہ ایک’5 اسٹار ہوٹل‘ کی تعمیر کے لیے لیز پر دیا تھا ۔ یہ لیز اس وقت بھی اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج ہوئی تھی تا ہم عدلیہ نے اس معاملے کو شفاف قرار دیا تھا۔

لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ زمین کی لیز غیر قانونی نہیں تھی اور الاٹمنٹ پراسیس میں بھی بدعنوانی نہیں تھی۔ یہ بات سمجھنے کی ہے، یہاں تک سارا کام قانونی تھا۔ ایک لگژری ہوٹل کی تب بھی دارلحکومت کو ضرورت تھی، یہ آج بھی ہے، اس لیے کسی لگژری ہوٹل کی تعمیر کے لیے زمین لیز پر دینا کوئی غلط یا غیرقانونی کام نہیں تھا۔ کہانی بعد میں شروع ہوتی ہے۔

 لیز کرانے والے گروپ نے 4.882 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر یہ زمین حاصل کی اور منصوبہ منظور کرایا تھا، مگر بتایا جارہا ہے کہ مکمل رقم ادا نہیں کی تھی۔یوں دیکھا جائے تو ابتدا سے ہی ضوابط کی خلاف ورزیاں ہونے لگیں۔

یہاں تک کہ ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس بنا دیے گئے۔ ڈویلپرز کومحض 15 فیصد ابتدائی ادائیگی پر زمین کا قبضہ بھی دے دیا گیا، شاید ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ والا محاورہ ایسی ہی صورتحال کو ظاہر کرنے کے لیے معرض وجود میں آیا ہے، سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ ایسی رحم دلی کیوں کی گئی ؟

یہیں سے نرالا کھیل شروع ہوا۔ واجبات کی ادائیگی میں مسلسل ڈیفالٹ کیا جاتا رہا بلکہ بار بار ری شیڈولنگ کی مراعات بھی حاصل ہوتی رہیں ۔ پاکستان کے نظام میں غریب تو سرکاری زمین لیز کرانے اور قرضہ ری شیڈولنگ کا سوچ بھی نہیں سکتا بلکہ درمیانے درجے کا کاروباری بھی کسی کھاتے میں نہیں ہے۔

یہاں تو چند ہزار روپے بجلی کے بل کی دو قسطیں کرانا مشکل ہے، سرکاری عمال عام شہری کا تو میٹر کاٹنے پہنچ جاتے ہیں۔ منتیں ترلے کرتے رہیںکہ ابھی بل جمع کرا دیتے ہیں یا کل کرادیں گے ، مگر کوئی نہیں سنتا اور فوراً بجلی کاٹ دیتے ہیں۔

بچے کی فیس نہ جمع ہو تو بچے کو اسکول سے نکال دیتے ہیں۔ عام شہری کے بچے کی فیس ری شیڈیول نہیں ہوتی۔ یہاں اربوں روپے کی زمین کے پیسے ری شیڈیول ہوتے رہے۔ ری شیڈیولنگ کی سہولت کن کے کہنے پر دی گئی ، کہیں نہ کہیں تو ریکارڈ موجود ہوگا، اصولاً تو ان کی پوچھ تاچھ ہونی چاہیے۔

کہانی کتنی دلچسپ ہے کہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوٹل کے لیے مختص جگہ پر لگژری فلیٹس تعمیر کیے گئے، جہاں ایک فلیٹ کی قیمت کروڑوں روپے سے شروع ہوتی ہے، اب ملک کی طاقتور ترین اشرافیہ کا مسکن یہی بستی سمجھی جاتی ہے بلکہ یہ بات عام ہے کہ اگر آپ ملک کی اشرافیہ کو ملنا چاہتے ہیں تو اس بلڈنگ میں پہنچ جائیں، سب آپ کو یہاں ملیں گے۔

ویسے بھی ایک دلیل ہے کہ جو لوگ یہاں رہتے ہیں یا جنھوں نے یہ فلیٹ خریدے ہیں، ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ ان کے ساتھ تو زیادتی ہوئی ہے۔ انھوں نے انتہائی مہنگے داموں یہ فلیٹ خریدے ہوئے ہیں۔ یہ بات درست ہے ۔

لیکن یہ سوال بھی ہے کہ کیا اس خریدار اشرافیہ کو کچھ پتہ نہیں تھا؟ اگر یہاں مڈل کلاس کے لوگ رہ رہے ہوتے تو شاید اتنا بڑا ایشو بھی نہ ہوتا۔ سرکار راتوں رات قبضہ لے لیتی اور کچھ بھی نہ ہوتا۔ لیکن اب تو حکمرانوں کے در و دیوار ہل گئے ہیں۔ بات سمجھیں۔

یہ عمارت محض 50 سے 60 بااثر خاندانوں کی ملکیت ہے، جو پاکستان کے امیر ترین اور مقتدر ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی نام منظر پر آچکے ہیں، جب کہ کئی نامعلوم بااثر افراد بھی منظر پر آجائیں گے۔

منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کمرشل حصوں کی غیر قانونی فروخت اور سب لیزنگ کی وجہ سے تھرڈ پارٹی کلیمز اور پیچیدہ قانونی مسائل پیدا ہوئے۔جنھوں نے فلیٹ خریدے ہیں، وہ مظلوم ہیں۔ لیکن اصل ذمے داروں کی طرف کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا۔

بہرحال یہ کہانی ہے غیرمعمولی انصاف کی، امراء اور بااثر افراد کے لالچ و ہوس کی، افسر شاہی کی ہوشیاریوں اور چالاکیوں کی، سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی، ناجائز مراعات کی، اقربا پروری کی، دوست نوازی کی ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2026 کو تمام فریقین کی قانونی درخواستیں خارج کر کے سی ڈی اے کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ بہرحال اب یہ معاملہ وزیراعظم کی مقرر کردہ کمیٹی کے سپرد ہے ، دیکھیں کیا ہوتا ہے لیکن کہانی میں ایکشن بھرپور ہے، سسپنس بھی ہے ، تھرل کی کمی بھی نہیں ہے ، لالچ اور ہوس بھی ہے اور کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نظام حکومت بھی ہے اور قانون بھی ہے ۔ ہے نا زبردست کہانی ۔

Load Next Story