ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت!

کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں اپنی مبینہ ہزیمت کو چھپانے اور خودساختہ کامیابی کے دعوؤں کو درست ثابت کرنے کے لیے دھونس، دھمکیوں کے بعد اپنے اندر کا غصہ سخت الفاظ کی صورت میں دنیا کے سامنے لا کر اپنی انا کی جھوٹی تسکین کی کوشش کرتے رہے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ورغلانے پر ایران کے خلاف صدر ٹرمپ نے جس جنگ کا آغاز کیا ہے اسے کسی جانب سے کوئی پذیرائی نہیں مل رہی ہے۔

امریکا کے اپنے اتحادی ایران کے خلاف جنگی اقدام کو غیر ضروری قرار دے کر جنگ کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں۔

ایران نے آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرکے امریکا پر ایسا کاری وار کیا ہے کہ ہزارہا کوششوں اور اپنے اتحادیوں کی منت سماجت اور آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی اپیلیں کرنے کے باوجود کوئی ان کی مدد کو نہ آیا تو امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی۔ ایران کو پاور پلانٹ اور بجلی گھروں اور پل تباہ کر دینے اور پتھر کے زمانے میں پہنچانے جیسی خوف ناک دھمکیاں دینے کے باوجود ایرانی قیادت یکجہتی اور ثابت قدمی کی مثال بن کر امریکا کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اسی صورت آمادہ ہے کہ امریکا ایران کی شرائط پر معاہدہ کرے اور جنگ بندی پر راضی ہو۔

اس ضمن میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ ہر دو جانب سے امید اور توقعات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اور کڑی شرائط بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ ایران ضمانت چاہتا ہے کہ امریکا و اسرائیل جنگ بندی کے بعد دوبارہ جارحیت کے ارتکاب سے باز رہیں۔

اس حوالے سے چین اور پاکستان کے تعاون سے جو پانچ نکاتی امن معاہدہ فارمولا بھی زیر غور آیا ہے اس پر پیش رفت کی مکمل تفصیلات ابھی میڈیا کے سامنے نہیں آئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پس پردہ نہایت فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور امریکا، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ جلد کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا میں تیل کی ترسیل جس بری طرح متاثر ہوئی ہے ،اس نے عالمی معاشی نظام کو زوردار جھٹکے لگائے ہیں، تیل کی فی بیرل قیمتیں 100 ڈالر سے زائد ہو چکی ہیں۔ جنگ بندی کو اب تقریباً ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، آبنائے ہرمز بند ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جس نے صدر ٹرمپ کو ایسے ذہنی ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دشنام طرازی پر اتر آئے ہیں۔

ان کے صبح شام بدلتے ہوئے بیانات سے ناامیدی، مایوسی اور پسپائی جھلک رہی ہے۔ شومئی قسمت دیکھیے کہ ملک کے طاقتور صدر ہونے کے باوجود ان کی اپنی فوج کے جنرلز ان کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انھیں اپنے عہدوں سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی سینیٹرز صدر ٹرمپ کو 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت صدارت کے منصب سے ہٹانے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت صدر کی معذوری یا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں نائب صدر اور کابینہ اختیارات سنبھال سکتی ہے تاہم یہ ایک مشکل عمل ہے۔

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کے لیے نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ سردست صدر ٹرمپ کو ہر دو فریق کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگ سٹھ نے ایران پر ممکنہ خوف ناک حملوں کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش میں غیر سنجیدہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰؑ کے مقصد کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

انھوں نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے خصوصی دعا کی بھی اپیل کی ۔جواب میں پوپ کا کہنا تھا کہ’’ غلبے یا جنگ کے لیے مسیحی تعلیمات کو استعمال کرنا درست نہیں‘‘

ایسی باتیں حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات اور طریقہ کار کے منافی ہیں، کیوں کہ مسیحی پیغام انسانیت کی بھلائی اور زندگیوں کو محفوظ بنانے کی تلقین کرتا ہے نہ کہ انھیں تباہ کرنے کی۔ غرض صدر ٹرمپ اور ان کے رفقا کو ہر جانب سے مایوسی و ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے غصے کو دوآتشہ کر رہا ہے جو مشرق وسطیٰ کے امن کو جھلسا سکتا ہے۔

اگرچہ امریکی صدر نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم انھوں نے مستقبل میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

امریکی سینیٹ نے بھی جمعرات کو ایک ایسی قرارداد کو 47 ووٹ کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کرنے یا کانگریس سے باضابطہ اجازت لینے پر مجبور کرنا تھا، جو اس امر کی عکاسی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اپنی جگہ لیکن صدر ٹرمپ اپنی مرضی کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔

Load Next Story