آبنائے ہرمز تنازع ، نئی پیش رفت

یہ محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے

امریکا کے صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ آج سے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کا عمل شروع کریں گے،ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکا کی بہتری کے لیے ان ممالک کے جہازوں کو باحفاظت باہر نکالیں گے جن کا مشر ق وسطیٰ تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں تاکہ وہ آسانی سے اپنا بزنس کرسکیں۔ 

انھوں نے کہا کہ یہ سب انسانی ہمدردی پر ہوگا، انھوں نے کہا کہ امریکی حکام مشرق وسطیٰ کو درہم برہم کرنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات پر ایران کے ساتھ ’’انتہائی مثبت بات چیت‘‘کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے اس کی 14نکاتی تجویز کا جواب دے دیا ہے جس کا جائزہ لیاجارہاہے،اس مرحلے پر ہم کوئی جوہری مذاکرات نہیں کر رہے ہیں۔ ایران کا 14نکاتی منصوبہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ کو ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور عوامی مخالفت کا سامنا ہے۔ جنگ کی لاگت، توانائی بحران، کانگریس میں بے چینی، ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی تشویش، تنازع پر وسیع پیمانے پر ہر طبقے میں ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔امریکی صدر کی مقبولیت نئی کم ترین سطح پر، عوام کی بڑی تعداد نے سروے میں ان کی قیادت اور ایران جنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے بنیادی تضادات کو عیاں کر دیا ہے، جہاں طاقت، مفاد، نظریہ اور بقا کی جدوجہد ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکی ہے کہ کسی ایک عنصر کو الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں رہا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ بظاہر ایک علاقائی تنازع محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، سفارتی توازن اور حتیٰ کہ عالمی نظامِ اقتدار تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی پالیسی اور ایران کی مزاحمتی حکمت عملی ایک ایسے تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں دونوں فریق بیک وقت دباؤ بھی بڑھا رہے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کر رہے۔

ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 14 نکاتی منصوبہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک مکمل تزویراتی خاکہ ہے جس میں جنگ کے خاتمے، اقتصادی بحالی، علاقائی توازن اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو ایک جامع فریم ورک میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس منصوبے میں امریکی افواج کے انخلا، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے لیے نئے طریقہ کار جیسے نکات شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اس بحران کو محض وقتی جنگ بندی تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ ایک دیرپا سیاسی حل کی تلاش میں ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب کی سخت زبان اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنی عسکری صلاحیت کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز اس پورے تنازع کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ یہ محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اور گیس گزرتی ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ کو محدود کرنے یا اس پر کنٹرول بڑھانے کی کوشش دراصل ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اگر یہ راستہ مکمل یا جزوی طور پر بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی توانائی منڈیوں میں محسوس ہوتے ہیں، قیمتیں بڑھتی ہیں اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

امریکا کی حکمت عملی میں ایک واضح ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ’’ انتہائی مثبت بات چیت‘‘جاری ہے اور وہ انسانی بنیادوں پر جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہتے ہیں، جب کہ دوسری طرف وہ ایرانی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دے کر طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتے ہیں۔

یہ تضاد دراصل امریکی داخلی سیاست اور عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ جنگی اخراجات، جو اب تک اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور توانائی بحران نے امریکی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ سروے رپورٹس کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد اس جنگ کو غیر ضروری سمجھتی ہے، جس کے باعث صدر کی مقبولیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

امریکی کانگریس اور خود ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اس پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکا کے لیے یہ جنگ نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کے خلاف سخت موقف اپنانا اور ساتھ ہی مذاکرات کی بات کرنا ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا مقصد داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر توازن برقرار رکھنا ہے۔

ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کو مذاکرات میں شامل کرنے پر آمادگی ایک اہم اور قابل غور پیش رفت ہے۔ یورینیم افزودگی کو 3.5 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنے مؤقف میں لچک پیدا کر رہا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا امریکا ایران کی ان شرائط کو قبول کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔ امریکی پالیسی کا ایک بنیادی ستون یہ رہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محدود کیا جائے اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو کم کیا جائے۔

ایسے میں ایران کی طرف سے پیش کی گئی شرائط کو مکمل طور پر قبول کرنا امریکا کے لیے سیاسی طور پر مشکل ہو سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب داخلی سطح پر پہلے ہی مخالفت بڑھ رہی ہو۔

اس پورے بحران میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ کردار پاکستان کے لیے ایک سفارتی موقع بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔ ایک جانب وہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بڑھا سکتا ہے، جب کہ دوسری جانب اسے اپنے قومی مفادات، خصوصاً توانائی کی ضروریات اور اقتصادی استحکام، کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی توانائی بحران کا شکار ہے، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، ایک بار پھر اہمیت اختیار کر رہا ہے، اگر اس تنازع کے نتیجے میں امریکی پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی میں توازن برقرار رکھے اور کسی ایک فریق کی طرف جھکاؤ سے گریز کرے۔عالمی سطح پر اس تنازع کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ یورپی ممالک، خصوصاً جرمنی، ایران سے جوہری پروگرام ترک کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چین اور روس اس صورتحال کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ چین، جو توانائی کا بڑا صارف ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے، جب کہ روس اس بحران کو عالمی توانائی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ سکتا ہے ایران کی جانب سے 30 دن کے اندر تمام معاملات حل کرنے کی ڈیڈ لائن بھی ایک اہم عنصر ہے۔

یہ ڈیڈ لائن بظاہر ایک دباؤ کی حکمت عملی ہے، مگر عملی طور پر اتنے کم وقت میں ایک جامع معاہدہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ ایک ابتدائی فریم ورک کے طور پر استعمال ہوگی، جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کی کوشش بھی ایک حساس قدم ہے۔ اگر یہ عمل غیر جانبدارانہ انداز میں کیا جاتا ہے تو اس سے کشیدگی کم ہو سکتی ہے، مگر اگر اسے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا گیا تو یہ براہِ راست تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مداخلت کا جواب دیا جائے گا، اور اس تناظر میں کسی بھی غلط فہمی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔اس بحران کا ایک اہم پہلو اطلاعاتی جنگ بھی ہے۔

دونوں فریق اپنے اپنے بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے میڈیا اور بیانات کا استعمال کر رہے ہیں۔ امریکا ایران کو ایک جارح ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، جب کہ ایران خود کو دفاعی پوزیشن میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیانیہ سازی عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے کی جا رہی ہے، جو کسی بھی بڑے تنازع میں ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔

 آخرکار اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے کہ اس بحران کا انجام کیا ہوگا۔ کیا یہ کشیدگی ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہوگی یا سفارت کاری کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچا جائے گا؟

موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں فریق مکمل جنگ سے گریز چاہتے ہیں، مگر اپنی شرائط پر۔ یہی وجہ ہے کہ بیانات میں سختی اور مذاکرات میں نرمی کا امتزاج نظر آتا ہے،اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ تمام فریق تحمل، تدبر اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔

جذباتی فیصلے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اگر اس موقع پر دانشمندی کا مظاہرہ کیا گیا تو یہ بحران ایک نئے سفارتی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

Load Next Story