کراچی، شفاف نتائج کے اجراء کے باوجود 4 ماہ تک معطل رہنے والے چیئرمین حیدرآباد تعلیمی بورڈ مستعفی

چیئرمین پروفیسر شجاع احمد نے بھی اپنے استعفے میں صرف دسویں اور بارہویں کے نتائج کو شفاف قرار دیا ہے



کراچی:

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد پروفیسر شجاع احمد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ عباس بلوچ کو بھیج دیا ہے۔

فی الحال ان کا استعفی منظور نہیں ہوا ہے تاہم انھوں نے اپنے استعفی کی بظاہر وجہ انتظامی ذمے داریوں کے سبب ان کے تحقیقی امور میں پیدا ہونے والی دقتوں کو قرار دیا ہے۔

لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ وزارت و محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے بورڈ میں مداخلت کے سبب ان کے اختلافات بڑھ گئے تھے۔

گزشتہ برس ان کی چیئرمین شپ میں ہی انٹر سال دوئم اور دسویں جماعت کا نتیجہ جاری کیا گیا تھا جسے بورڈ کی تاریخ کا شفاف ترین نتیجہ قرار دیا جارہا تھا۔

بعدازاں بعد بورڈ کے کچھ افسران کی جانب سے نویں اور گیارہوں جماعتوں کے نتائج میں جب تاخیر شروع کی گئی تو ان کی جانب سے ایک اسسٹنٹ کنٹرولر کو ٹرانسفر کردیا گیا تھا۔

تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اس ٹرانسفر کو رکوانے کے لیے درمیان میں آگیا ناصرف یہ کہ متعلقہ اسسٹنٹ کنٹرولر کا تبادلہ روکا گیا بلکہ نتائج میں تاخیر کا زمے دار چیئرمین بورڈ کو ٹہراتے ہوئے ان تقریبا 4 ماہ تک معطل رکھا گیا اور اس اثناء میں نویں جماعت کے نتائج جاری کیے گئے۔

قابل ذکر امر یہ یے کہ مستعفی ہونے والے چیئرمین پروفیسر شجاع احمد نے بھی اپنے استعفے میں صرف دسویں اور بارہویں کے نتائج کو شفاف قرار دیا ہے جبکہ نویں اور گیارہوں کے نتائج جو ان کی معطلی کے دوران جاری ہوئے اس پر خاموشی اختیار کی ہے۔

حال ہی میں جب وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ نے حیدرآباد کے امتحانی مراکز کا دورہ کیا تو بجائے چیئرمین کے بورڈ کے اسسٹنٹ کنٹرولر ان کے ہمراہ تھے جو ایک معنی خیز عمل تھا۔

ادھر استعفی دینے والے چیئرمین حیدتآباد بورڈ نے اپنے استعفی میں کہا ہے کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کے شکر گزار ہیں انھوں نے تلاش کمیٹی کی سفارش پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد  کے چیئرمین کے طور پر ان کا انتخاب کیا۔

اس سے قبل میں وہ جامعہ سندھ کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں پروفیسر اور ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انھیں اکیس سالہ تدریسی و تحقیقی اور دس سالہ انتظامی تجربہ حاصل ہے انھوں نے اپنا پی ایچ ڈی رائل ہولوے یونیورسٹی آف لندن برطانیہ سے مکمل کیا وہ 8 پی ایچ ڈی اور25 سے زائد ایم فل اسکالرز تیار کر چکے ہیں۔