واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ، وائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا
فوٹو: رائٹرز
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد اچانک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔
امریکی خفیہ ایجنسی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے نارتھ لان میں موجود صحافیوں کو فوری طور پر اندر جانے کی ہدایت کی اور پورے علاقے کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا۔
حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ 15ویں اسٹریٹ اور انڈیپنڈنس ایونیو کے قریب پیش آیا جو نیشنل مال کے قریب واقع ہے یعنی وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ایک شخص کو قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے گولی ماری تاہم اس کی حالت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی خوش قسمتی سے وائٹ ہاؤس کے اندر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے باعث کچھ دیر کے لیے ماحول انتہائی کشیدہ رہا، تاہم بعد ازاں لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں شیڈول تقریب میں شرکت کی جو تقریباً 45 منٹ تاخیر سے شروع ہوئی۔
میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کے مقام سے دور رہیں کیونکہ کئی سڑکیں گھنٹوں تک بند رہنے کا امکان ہے۔