یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر بڑا سائبر حملہ؟ ہیکرز نے 4 لاکھ سے زائد دستاویزات چرالیں
متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہ فجیرہ کے خلاف ایک بڑے سائبر حملے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس میں لاکھوں خفیہ دستاویزات چوری کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکرز کے ایک گروپ ’حنظلہ‘ نے فجیرہ بندرگاہ کے سسٹمز کو نشانہ بنایا اور ایک منظم سائبر آپریشن کے ذریعے تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد حساس دستاویزات حاصل کر لیں۔
ان دستاویزات میں شپنگ، مالیاتی لین دین اور انفراسٹرکچر سے متعلق اہم معلومات شامل بتائی جا رہی ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حاصل کی گئی معلومات کو فجیرہ بندرگاہ پر ممکنہ ٹارگٹڈ حملوں میں استعمال کیا گیا۔ ہیکر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعاون پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ہیکرز نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ اس تعاون کے ’سنگین نتائج‘ سامنے آسکتے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس سائبر حملے یا دستاویزات کی چوری کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔