سندھ کابینہ نے کراچی میں 500 ایکڑ پر مشتمل میگا قبرستان بنانے کی منظوری دے دی
سندھ کابینہ نے کراچی میں 500 ایکڑ پر مشتمل میگا قبرستان بنانے کی منظوری دے دی۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں عوامی ریلیف، انفراسٹرکچر اور انتظامی معاملات سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں انسدادِ تجاوزات ٹریبونل قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ اقدام سندھ پبلک پراپرٹی (انسداد تجاوزات) ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کے لیے کیا گیا ہے۔ ترامیم کے بعد ٹریبونل کا دائرہ اختیار ضلع سے بڑھا کر ڈویژن سطح تک منتقل کیا جائے گا جبکہ پریزائیڈنگ آفیسر کی تقرری سندھ ہائی کورٹ سے مشاورت سے کی جائے گی۔ نئے مالی سال 2026-27 میں اس کے لیے بجٹ بھی مختص کیا جائے گا۔
اجلاس میں کراچی میں میگا قبرستان کے قیام کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ یہ زمین ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں دی جائے گی۔ کابینہ کے مطابق اراضی کی قیمت فی ایکڑ 13.5 ملین روپے مقرر کی گئی ہے اور مجموعی لاگت 6,750 ملین روپے ہوگی۔ زمین محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی تاکہ شہر میں تدفین کے بڑھتے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
سندھ حکومت نے ماہی گیر برادری کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکیج کی بھی منظوری دے دی، اس پیکیج سے کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے ماہی گیر مستفید ہوں گے۔
سندھ کابینہ نے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ بھی کیا اور فیصل ملک کو ممبر فنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری دی۔
اجلاس میں سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس ترمیمی ایکٹ 2026 پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 132 درخواست گزار تصفیہ معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں جبکہ 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔ کابینہ نے مقدمات واپس لینے اور تصفیہ کی آخری تاریخ 23 اگست 2026 تک بڑھا دی۔ واجبات کی ادائیگی اقساط میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت جولائی اور اکتوبر 2026 اور جولائی 2027 میں 15 فیصد قسطیں ادا کی جائیں گی جبکہ باقی رقم 2028 سے سہ ماہی بنیادوں پر ادا ہوگی۔ جلد ادائیگی کرنے والوں کو 0.80 فیصد کی رعایت دی جائے گی۔
عوامی ریلیف کے تحت پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی 2026 تک توسیع کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر مئی کے لیے 2 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد کو سبسڈی دی جا رہی ہے اور فی شناختی کارڈ 2 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اب تک 1.096 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
کابینہ نے موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے سیلز ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے کی منظوری بھی دی۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے سالانہ 120 ملین روپے کے مالی اثرات ہوں گے جبکہ اس اقدام سے آن لائن ڈرائیورز کو فائدہ ہوگا اور رائیڈ کینسلیشن میں کمی آنے کی توقع ہے۔
کابینہ نے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 ء منظوری کے بعد اسمبلی کو بھجوا دیا، مجوزہ ترمیم کے ذریعے "کاروبار اور انسانی حقوق" کو قانونی دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے، چیئرپرسن اور اراکین کی مدت 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی، سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، وزیر، مشیر اور معاونِ خصوصی کے کردار کو انسانی حقوق کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کیا گیا ہے مجوزہ ترمیم کے تحت کمیشن کو صوبے بھر میں انسانی حقوق کمیشن کے دفاتر قائم کرنےکا اختیار دیا گیا ہے۔