سکیورٹی گارڈز تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، ٹریفک معطل

چار ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو چکا ہے

راولپنڈی میں سرکاری ہسپتالوں کے سکیورٹی گارڈز تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور مری روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک معطل کر دی۔

مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جبکہ ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی.

مظاہرین کا کہنا تھا کہ الائیڈ ہسپتالوں کی سکیورٹی ایک نجی کمپنی کے پاس ہے جو حکومت سے فی گارڈ 45 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہی ہے، مگر گارڈز کو صرف 25 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے اور وہ بھی بروقت ادا نہیں کی جاتی۔

ان کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں چار ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ احتجاج کے دوران ایک سکیورٹی گارڈ چاچا اورنگزیب کو دل کا دورہ پڑا جنہیں فوری طور پر بینظیر بھٹو جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایم ایس ڈاکٹر شرجیل سرفراز شیخ کے مطابق ان کی حالت اب بہتر ہے۔

سکیورٹی گارڈز کے احتجاج کے باعث نہ صرف مری روڈ پر شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا بلکہ ہسپتالوں کا نظام بھی متاثر ہوا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ اس معاملے پر خاموش ہے، جبکہ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی گارڈز کی تنخواہوں کی ادائیگی متعلقہ نجی سکیورٹی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔

ادھر رابط کرنے پر ایم پی اے ضیا اللہ شاہ کا کہنا تھا کہ تنخواہوں کا مسئلہ اس لیے درپیش ہے کہ ہاسپٹیلز میری سیکورٹی کمپنی کو گزشتہ جولائی سے پےمنٹ نہیں کررہی اس لیے تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں۔

Load Next Story