جو مزہ غزل گانے میں ہے کسی دوسری صنف میں نہیں ہری ہرن

غزل گائیکی کے فروغ اور ٹیلنٹ تلاش کرنے کیلیے میوزک چینلز خصوصی پروگرام تیار کریں، ہری ہرن

غزل گائیکی کے فروغ اور ٹیلنٹ تلاش کرنے کیلیے میوزک چینلز خصوصی پروگرام تیار کریں، ہری ہرن فوٹو : فائل

بھارت کے بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف غزل گائیک اور پلے بیک سنگر ہری ہرن نے کہا ہے کہ غزل اس خطے کی پہچان ہے۔

برصغیر پاک وہند میں بہت سے معروف استادوں کی بدولت غزل گائیکی کوایک منفرد پہچان ملی ہے لیکن اب نوجوان نسل تک غزل کو پہنچانے کے لیے ہم سب کومل کرکوشش کرنا ہوگی۔ اس سلسلہ میں آرٹ کے فروغ کے لیے بنائے گئے اداروں کو جہاں غزل گائیکی کی محفلیں سجانی چاہئیں، وہیں میوزک چینلز کوغزل کے شعبے میں نوجوان ٹیلنٹ کوتلاش کرنے کے لیے خصوصی پروگرام تیارکرنے ہونگے۔ اس کے بغیر غزل گائیکی کا فروغ ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار ہری ہرن نے فون پر بات کرتے ہوئے ''ایکسپریس'' سے کیا۔


انھوں نے کہا کہ میں نے فلموں میں پلے بیک بھی کیا اورمیوزک کی مختلف اصناف میں بھی تجربات کیے لیکن جو مزہ مجھے غزل گانے میں آتا ہے وہ کسی دوسری صنف میں نہیں ہے۔ ایک طرف کلام کا انتخاب تودوسری جانب غزل کا ٹہراؤ، مجھے ہمیشہ متاثر کرتاہے۔ اسی لیے میں نے بھی غزل گائیکی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اوراس شعبے میں منفرد مقام بنانے کے لیے شب وروز یاضت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ انھوں نے کہا کہ میوزک کے شعبے میں غزل گائیکی کوقدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو غزل گائیکی جانب لانے کے لیے ایسے خصوصی پروگرام ترتیب دیں جس کی وجہ سے وہ غزل کے شعبے کو اپنائیں اور اپنی صلاحیتوں سے اپنا اوراپنے ملک کانام روشن کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ غزل گائیکی میں پاکستان کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن مرحوم، غلام علی ، فریدہ خانم ، اقبال بانو سمیت دیگر گائیکوں نے غزل کو عروج پر پہنچایا۔
Load Next Story