اسکولوں میں نیا قانون، بُلی انگ کرنے والے لڑکوں کی اب پٹائی ہوگی

یہ سزا صرف لڑکوں کے لیے مخصوص ہوگی جبکہ لڑکیوں کو چھڑی سے سزا نہیں دی جائے گی

سنگاپور میں اسکولوں کے اندر بُلی انگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت نے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن کے تحت بُلی انگ میں ملوث طلبہ کو چھڑی سے سزا دی جا سکے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سزا صرف اس صورت میں دی جائے گی جب دیگر تمام اصلاحی اقدامات ناکام ہو جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور طلبہ کے درمیان محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت بُلی انگ کرنے والے طلبہ کو ایک سے تین چھڑیوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سزا کے اطلاق کے لیے سخت قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

سنگاپور کے وزیر تعلیم ڈیسمنڈ لی نے پارلیمان میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں چھڑی کا استعمال صرف آخری حل کے طور پر کیا جاتا ہے، جب دیگر طریقے مؤثر ثابت نہ ہوں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس عمل کی منظوری اسکول کے پرنسپل اور انتظامیہ کی جانب سے دی جاتی ہے، اور صرف مجاز اساتذہ کو ہی یہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔

یہ معاملہ پارلیمان میں اس وقت زیر بحث آیا جب اراکین نے سوال اٹھایا کہ بُلی انگ کے خلاف اس سزا کا کس حد تک مؤثر کردار ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسمانی سزا بچوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ سخت سزائیں نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ سزا صرف لڑکوں کے لیے مخصوص ہوگی جبکہ لڑکیوں کو چھڑی سے سزا نہیں دی جائے گی۔

Load Next Story