شدید گرمی سے فوراً اے سی میں جانا کیوں نقصان دہ ہوسکتا ہے؟ ماہرین کا انتباہ

اصل احتیاط اسی میں ہے کہ گرمی اور ٹھنڈک کے درمیان متوازن رویہ اپنایا جائے

گرمی کی شدت میں باہر سے واپس آکر فوراً ٹھنڈے اے سی والے کمرے میں داخل ہونا بظاہر فوری سکون فراہم کرتا ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق یہ اچانک تبدیلی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور بعض اوقات صحت کے مختلف مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ انسانی جسم درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کےلیے ایک منظم نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ شدید گرمی میں جسم پسینہ خارج کرکے اور خون کی نالیوں کو پھیلا کر خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی فرد اچانک انتہائی ٹھنڈے ماحول میں جاتا ہے تو جسمانی نظام پر فوری دباؤ پڑتا ہے۔

اس اچانک تبدیلی کو ماہرین ’’حرارتی جھٹکا‘‘ قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں سر درد، گلے کی خراش، کھانسی، سانس لینے میں دشواری یا جسمانی بے آرامی جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ اگرچہ یہ علامات وقتی محسوس ہوتی ہیں، مگر درحقیقت یہ جسم کے اندرونی توازن میں خلل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق بہتر یہی ہے کہ شدید دھوپ یا گرمی سے واپس آنے کے بعد فوری طور پر اے سی والے ماحول میں جانے کے بجائے چند منٹ کسی سایہ دار یا نسبتاً معتدل جگہ پر گزارے جائیں تاکہ جسم آہستہ آہستہ درجہ حرارت کی تبدیلی کو برداشت کر سکے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ گرمی میں جسم میں پانی کی کمی عام ہوجاتی ہے، جس کے باعث اچانک ٹھنڈک کا اثر مزید سخت محسوس ہوسکتا ہے۔ اسی لیے مناسب مقدار میں پانی پینا اور خود کو ہائیڈریٹ رکھنا بے حد ضروری ہے۔

اے سی کے مسلسل استعمال سے پیدا ہونے والی خشک فضا بھی گلے کی خشکی، کھانسی یا جلن کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر اگر درجہ حرارت بہت کم رکھا جائے یا ٹھنڈی ہوا براہ راست جسم پر پڑے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق اصل احتیاط اسی میں ہے کہ گرمی اور ٹھنڈک کے درمیان متوازن رویہ اپنایا جائے۔ مناسب درجہ حرارت، تھوڑا انتظار، پانی کا استعمال اور براہ راست سرد ہوا سے بچاؤ نہ صرف جسمانی سکون دیتے ہیں بلکہ ممکنہ طبی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔

موسمِ گرما کی بڑھتی شدت کے پیشِ نظر یہ معمولی احتیاطی تدابیر بڑی اہمیت اختیار کرچکی ہیں، کیونکہ بعض اوقات فوری آرام کے بجائے تھوڑا سا صبر ہی بہتر صحت کی ضمانت بن جاتا ہے۔

Load Next Story