پروسیسڈ غذاؤں اور پٹھوں کی خراب صحت کے درمیان ممکنہ تعلق کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں باقاعدگی سے الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانے اور پٹھوں کی خراب کیفیت کے درمیان ممکنہ تعلق کا انکشاف کیا گیا ہے۔
ریڈیو لوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امیریکا کے محققین نے ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کی کھپت ران کے پٹھوں میں زیادہ چکنائی سے تعلق رکھتی ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ آپ کتنی کیلوریز کھاتے ہیں ہیں، کتنی ورزش کرتے ہیں اور آپ کی جینیاتی تاریخ کیا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ چکنائی کی زیادہ مقدار گھٹنے کے آسٹو آرتھرائٹس کے خطرات بھی بڑھا دیتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے ڈپارٹمنٹ آف ریڈیولوجی اینڈ بائیومیڈیکل امیجنگ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر زہرا اکایا نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹو آرتھرائٹس ایک تیزی سے پھیلتا اور عالمی صحت میں ایک مہنگا مسئلہ ہے۔ اس کا مٹاپے اور غیر صحت مند طرزِ زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے۔
محققین نے آسٹو آرتھرائٹس انیشیئٹیو کے تحت حاصل شدہ ایم آر آئی امیجنگ اور ڈیٹا کا استعمال کیا اور 600 سے زائد افراد کے ران کے پٹھون کا جائزہ لیا جن کی 41 غذا الٹرا پروسیسڈ تھی۔
تحقیق کے شرکا نے اپنے غذا اور مشروبات سے متعلق 100 سے زائد سوالات کے جوابات دیےجس میں انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھاتے ہیں یا کبھی نہیں۔
تقریباً 400 بالغ افراد کو زائد وزن کا شکار سمجھا گیا، جبکہ 149 افراد موٹاپے میں مبتلا تھے۔ اس وجہ سے ان میں گھٹنے کے اوسٹیو آرتھرائٹس کا خطرہ زیادہ تھا۔
اسکینز سے یہ معلوم ہوا کہ ہر فرد کے پٹھوں میں کتنی چربی جمع ہے اور یہ بھی کہ جن لوگوں کی خوراک کم معیاری تھی، ان کی حالت زیادہ خراب تھی۔
تاہم، یہ حتمی طور پر کہنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ واقعی الٹرا پروسیسڈ خوراک ہی اس کی وجہ تھی۔