شیما کرمانی کے ساتھ بدسلوکی پر پولیس افسران کے تبادلے، 2 ایس ایچ اوز معطل اور تنزلی
وزیرداخلہ کی ہدایت پر کراچی پولیس چیف آزاد خان نے پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی سمیت دیگر خواتین کی گرفتاری اور بدسلوکی پر پانچ افسران کیخلاف ایکشن لے لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے شیما کرمانی اور انسانی حقوق کی خواتین ورکرز کی گرفتاری و مبینہ بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر ایس ڈی پی او صدر ڈی ایس پی ناصر آفریدی کو معطل کر کے کراچی پولیس آفس تبادلہ کر دیا جبکہ کراچی پولیس چیف نے ایس ایچ او آرٹلری میدان انسپکٹر ندیم حیدر اور ایس ایچ او تھانہ وومن ڈسٹرکٹ ساؤتھ انسپکٹر حنا مغل کو معطل کر کے گارڈن پولیس ہیڈکوارٹر ساؤتھ میں قائم سسپنڈ کمپنی تبادلہ کر دیا۔
کراچی پولیس چیف نے دونوں ایس ایچ اوز کے عہدے میں ایک درجہ تنزلی کر کے انسپکٹر سے سب انسپکٹر کر دیا جبکہ معطل کیے جانے والے پولیس افسران کے خلاف انکوائری کا بھی عمل جاری ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، خواتین کے احترام اور حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ترجمان کراچی پولیس کے مطابق کراچی پولیس چیف آزاد خان کے حکام پر معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف نے ہدایت جاری کی ہین کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پیشہ ورانہ طرز عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے۔