روبوٹ کی وجہ سے مسافر طیارہ ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار
کیلیفورنیا کے شہر اوک لینڈ سے سان ڈیاگو جانے والی ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی ایک پرواز کو ایک عجیب و غریب مسافر (ایک روبوٹ) کی وجہ سے ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ایلی بین ابراہام (جو ایلیٹ ایونٹ روبوٹکس سے تعلق رکھتے ہیں) نے تصدیق کی کہ وہ اور ان کا چار فٹ لمبا، 31.75 کلوگرام وزنی روبوٹ ’بیبوپ‘ جمعرات کے روز اوک لینڈ سان فرانسسکو بے ایئرپورٹ سے سان ڈیاگو جانے والی پرواز میں سوار ہوئے۔
ایئرلائن کی ترجمان لن لنزفورڈ نے بتایا کہ بین ابراہام نے بیبوپ کے لیے باقاعدہ ٹکٹ خریدا تھا، مگر ابتدائی تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ روبوٹ کو گزرگاہ (آئیل) والی نشست پر بٹھانا بڑی ہینڈ کیری اشیا کے قواعد کے خلاف تھا۔
بعد ازاں بیبوپ کو کھڑکی والی نشست پر منتقل کر دیا گیا، لیکن عملے نے جلد ہی ایک اور مسئلہ اٹھایا۔
بین ابراہام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اہلکار آئے اور پوچھنے لگے کہ اس میں کس قسم کی بیٹری ہے؟ کیا معاملہ ہے؟ مختلف سوالات کیے، وہ اسے دیکھنا چاہتے تھے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ بیبوپ کی لیتھئم بیٹری ایئرلائن کی پالیسی کے مطابق مقررہ حد سے بڑی تھی، لہٰذا جہاز اسی وقت روانہ ہو سکا جب بیٹری نکال کر ضبط کر لی گئی۔
اس کے بعد بین ابراہام اور غیر فعال روبوٹ سان ڈیاگو کا سفر جاری رکھنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ طیارہ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ اور دو منٹ تاخیر سے روانہ ہوا۔