فیلڈ مارشل کی لیڈرشپ پر یقین رکھیں، رزلٹ اچھا ملے گا، محسن نقوی

معرکہ حق کے دوران صدر مملکت کو کہا گیا آپ کو بنکر میں جانا ہے تاہم انہوں نے کہا اگر میری شہادت ہے تو یہیں پر ہوگی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے اور ہم اسے منا رہے ہیں، فیلڈ مارشل کی لیڈرشپ پر یقین رکھیں، رزلٹ اچھا ملے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں سول اور عسکری اداروں نے قابلِ تحسین کردار ادا کیا جبکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ رہی اور میں گواہ ہوں جس طرح اللہ کی مدد آئی۔

محسن نقوی نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں نے ایڈوانس انفارمیشن فراہم کی جبکہ جنگ میں پہلی مرتبہ ڈرون کا استعمال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈرون کئی گھنٹوں تک دہلی میں گھومتے رہے جس سے وہاں خوف و ہراس پھیلا جبکہ ہمارے ڈرون ان کے وزیراعظم ہاؤس کے اوپر بھی گھوم رہے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ رینجرز کے جوانوں نے بارڈر پر دشمن کے زیادہ تر ڈرون گرادیے۔

محسن نقوی نے کہا کہ دشمن کی کوشش تھی کہ سائبر حملے کیے جائیں تاہم وہ سائبر حملوں میں ہمارے قریب بھی نہیں آسکے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی میڈیا نے قوم کو اکٹھا رکھا جبکہ بھارتی میڈیا مسلسل کنفیوز رہا اور انہوں نے اپنے اوپر خود حملہ کرنے کا پراپیگنڈا کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے واضح کیا تھا کہ جب حملہ کریں گے تو کھل کر کریں گے، چھپ کر نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران مذاکرات میں بھی فیلڈ مارشل کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہی۔

محسن نقوی نے کہا کہ بھارت نے جنگ کے دوران بلوچستان کی چیل پوسٹوں پر حملہ کیا تاہم سولہ میں سے چودہ یا پندرہ میزائل بیس پر نہیں گرے جبکہ صرف ایک میزائل بیس پر گرا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا جبکہ بھارت کے کئی بڑے ٹارگٹ ہمارے نشانے پر تھے جن میں ان کی نیوی، ایئرفورس اور ملٹری انسٹالیشن شامل تھیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسی لیے بھارت جنگ سے بھاگا کیونکہ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ ہمارے اثاثے نشانے پر ہیں، اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو بھارت کا بہت زیادہ نقصان ہوجاتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس معرکے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا بڑا اہم کردار رہا جبکہ جنگ کے دوران ہمیں سب کچھ پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ایجنسیوں نے زبردست کردار ادا کیا اور جس طرح ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جنگ میں کام کیا وہ دیگر ایجنسیاں نہیں کرسکتیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور ایئر چیف کے درمیان زبردست کوآرڈینیشن تھی جبکہ ایئر چیف نے 12 سے 14 دن جس طرح آپریشن روم میں گزارے وہ بھی مثالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں افواج اور قوم نے کوآرڈینیشن کے ساتھ مثالی کام کیا جبکہ ان تمام کامیابیوں میں اللہ کی مدد اور فیلڈ مارشل کا کردار بہت اہم تھا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس جنگ کے دوران صدر اور وزیراعظم بھی بہادری کے ساتھ کھڑے رہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کو کہا گیا کہ آپ کو بنکر میں جانا ہے تاہم صدر مملکت نے کہا کہ اگر میری شہادت ہے تو یہیں پر ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کوئی ملکی سلامتی کے لیے کام کرے گا تو ہم اس کے ساتھ ہوں گے، فیلڈ مارشل کی لیڈرشپ پر یقین رکھیں، رزلٹ اچھا ملے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے بھارت نے متعدد ممالک سے رابطہ کیا، ہمیں بھی کئی ممالک سے فون آئے تاہم ہم نے ابتدائی طور پر فون نہیں اٹھائے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اس عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت کو اگر کسی کا شکر گزار ہونا چاہیے تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے ان کی جان چھڑوائی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ہزار ارب روپے کی پراپرٹی ریکور کروائی گئی ہے اور اس طرح کی مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ملک میں دہشتگردی ہوئی اور اس میں افغانستان ملوث ہوا تو پورا جواب دیا جائے گا، افغان شہری بڑی تعداد میں واپس جا رہے ہیں۔

Load Next Story