اسرائیلی فوجی کی لبنان میں حضرت مریمؑ سے منسوب مسیحی مجسمے کی بے حرمتی

رپورٹس کے مطابق یہ تصویر جنوبی لبنان کے عیسائی اکثریتی گاؤں دیبل میں لی گئی تھی

لبنان کے جنوبی علاقے میں حضرت مریم علیہ السلام سے منسوب مسیحی مذہب کے مقدس مجسمے کی بے حرمتی کی تصویر منظرِ عام پر آنے کے بعد اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر میں ایک اسرائیلی فوجی کو مجسمہ کے منہ میں سگریٹ رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ وہ خود بھی سگریٹ پی رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق یہ تصویر جنوبی لبنان کے عیسائی اکثریتی گاؤں دیبل میں لی گئی تھی، تاہم یہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ذمہ دار فوجی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، گزشتہ ماہ بھی اسی گاؤں میں ایک اسرائیلی فوجی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب مجسمے کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے علاقے میں گھروں، سڑکوں، زیتون کے درختوں اور سولر پینلز کو بھی نقصان پہنچایا۔

ادھر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق اور مذہبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں عیسائی برادری، مذہبی شخصیات اور عبادت گاہوں کے خلاف واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی حکومت کو اس وقت بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک ویڈیو میں ایک فرانسیسی راہبہ پر حملہ دکھایا گیا تھا۔ عالمی دباؤ کے بعد اسرائیلی حکام نے ملزم کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Load Next Story