گاؤں میں تنازع پر قتل کے مجرم کی سزا کیخلاف سماعت، عمر قید برقرار رکھنے کا فیصلہ

آپ اپنی شرافت سے پہلے بھی ہمیں گھما چکے ہیں، جج کا وکیل سے مکالمہ

سپریم کورٹ میں گاؤں میں تنازع پر قتل کے واقعے کی سماعت ہوئی  جس میں عدالت نے مجرم نواز کی 14 سال قید کی سزا برقرار رکھی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ تنازع ہوا، مقتول چھت پر تھا جبکہ فائرنگ نیچے سے کی گئی، جائے وقوعہ کا نقشہ بنانے والے نے نہ چھت دکھائی، نہ سیڑھی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ نقشہ بنانے والا کوئی آرکیٹیکٹ تھوڑی تھا، غریب نے اپنی پوری کوشش کی، آپ اپنی شرافت سے پہلے بھی ہمیں گھما چکے ہیں۔

جج نے کہا کہ گواہ اور طبی رپورٹ موجود ہیں، ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا رکھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمے میں جو بیان کیا جا رہا ہے، ایسا ہوا ہی نہیں، مقدمے میں کہا گیا کہ دونوں آمنے سامنے تھے۔

جسٹس ہاشم نے کہا کہ ہمیں کیا پتا یہ گاؤں ہے یا کچن، گولی تو چھت پر چلائی گئی ہے نا، واقعہ اچانک نہیں ہوا، آدھے گھنٹے سے صورتحال چل رہی تھی۔ ایسا سمجھ رکھا ہے کہ چارسدہ میں اسلحہ بنتا ہے، ہر گولی دو نمبر نہیں ہوتی۔ گولی نیچے سے چلائی گئی اور چھت کی طرف فائر کی گئی، ایک ہی انجری ہوئی ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کراس فائرنگ ہوئی ہے، صورتحال ایسی نہیں کہ ملزم کو بری کر دیں۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کراس فائرنگ نہیں ہوئی، ملزم 10 سال سے اشتہاری تھا، یہ بات ہم مانتے ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مجرم 10 سال گزار چکا ہے، کچھ سال باقی ہیں، نکل آئے گا، عدالت نے ملزم کی 14 سال قید کی سزا برقرار رکھی۔

Load Next Story