سینیٹ قائمہ کمیٹی کا ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور فارمولا ملک ’’مافیا‘‘ کے کردار پر اظہار تشویش
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صحت نے ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور فارمولا ملک مافیا کے کردار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے سخت نگرانی اور قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 16 اگست کو منعقد ہوگا جبکہ ایف ایس سی کے آخری امتحانات 20 جولائی کو مکمل ہوں گے۔ حکومت ایم ڈی کیٹ کی تیاری کروانے والے ’’مافیا‘‘ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ طلبہ کو شفاف اور منصفانہ نظام فراہم کیا جا سکے۔
ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے اور ادویات کی ڈی ریگولیشن حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ 15 برس سے زیرِ التواء ادویات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کی گئی، جس کے بعد بعض ادویات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم وزارت صحت مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا تو کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو مسلسل نقصان میں ادویات تیار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس میں ڈریپ کی جانب سے ادویات کی قیمتوں سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق ملک میں 55 فیصد سے زائد غیر ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 771 برانڈز میں سے 424 ادویات کی قیمتیں سابقہ نرخوں سے تجاوز کر گئیں، جبکہ 31 ادویات ایسی تھیں جن کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ مزید 62 برانڈز کی قیمتوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم رپورٹ کے مطابق 329 ادویات کی قیمتیں کم سطح پر بھی آئیں جبکہ صرف 18 برانڈز ایسے تھے جن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
سی ای او ڈریپ نے کہا کہ پاکستان میں 659 ادویہ ساز کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ 394 ادارے بیرونِ ملک سے ادویات اور ویکسین درآمد کرتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی مجموعی فروخت ایک کھرب 32 ارب روپے رہی۔ نگران دورِ حکومت میں ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا اور موجودہ قانون کے مطابق ڈریپ صرف زندگی بچانے والی ضروری ادویات کی قیمتوں کو ریگولیٹ کر سکتی ہے۔
اجلاس میں فارمولا ملک کے معاملے پرچیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فارمولا ملک ایک ’’مافیا‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کے ذریعے اربوں روپے کمائے جا رہے ہیں، جبکہ بچوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔ کمیٹی نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو خط لکھنے کی ہدایت کی کہ فارمولا ملک کے اشتہارات میں واضح طور پر درج کیا جائے کہ ’’ماں کے دودھ سے بہتر کوئی غذا نہیں‘‘۔