امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے زندگی اجیرن بنادی؛ سروے میں ٹرمپ ذمہ دار قرار
پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور ذخائر میں کمی سے امریکیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)
امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافے نے شہریوں کی بڑی تعداد کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تین مشترکہ سروے میں 81 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔
سروے میں شامل 33 فیصد افراد نے کہا کہ انھیں شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ 48 فیصد نے اسے معمولی لیکن واضح دباؤ قرار دیا۔
صرف 19 فیصد امریکیوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی مالی صورتحال متاثر نہیں ہوئی۔
امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں مسلسل 15ویں روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد فی گیلن اوسط قیمت 4.56 ڈالر تک پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 2.98 ڈالر فی گیلن تھی جبکہ اب کئی ریاستوں میں قیمتیں 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں۔
کیلی فورنیا میں پیٹرول کی قیمت سب سے زیادہ 6.16 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی جبکہ واشنگٹن میں 5.75 ڈالر، ہوائی میں 5.66 ڈالر اور آرگان میں 5.33 ڈالر فی گیلن قیمت دیکھی گئی۔
27 سے 30 اپریل کے درمیان کیے گئے سروے میں 63 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ پٹرول کی بلند قیمتوں کا زیادہ یا کچھ حد تک ذمہ دار صدر ٹرمپ کو سمجھتے ہیں۔
سیاسی وابستگی کے لحاظ سے 89 فیصد ڈیموکریٹس، 63 فیصد آزاد رائے دہندگان اور 32 فیصد ریپبلکن ووٹرز نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔
صرف 37 فیصد افراد نے کہا کہ وہ صدر کو کم یا بالکل ذمہ دار نہیں سمجھتے۔