معرکہ حق کا ایک سال

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت پہلگام واقعہ کی طرح کسی فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کر سکتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں 275 ویں کور کمانڈر کانفرنس میں عسکری قیادت نے مسلح افواج کی آپریشنل اور جنگی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں جاری انٹیلی جنس کی بنیادوں پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں کامیابی کو سراہا ۔ شرکا کانفرنس نے علاقائی کشیدگی سے بچاؤ اور تحمل و برداشت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کا دار و مدار باہمی ذمے داری اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں کامیابی عوام، حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام اندرونی و بیرونی چیلنجز کے مد مقابل ’’بنیان المرصوص‘‘ کی مانند یکجا کھڑی ہیں۔

اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے خلاف معرکہ حق میں جس شان دار جنگی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض چار روزہ جنگ میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا، اس نے نہ صرف دشمن کے اوسان خطا کر دیے تھے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی مسلح افواج بالخصوص پاک فضائیہ نے بھارت کے رافیل طیارے گرا کر پوری دنیا میں اپنی فضائی حکمرانی کا سکہ بٹھا دیا ہے۔ دشمن آج تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کے خلاف ایک اور خوفناک جنگ کے تانے بانے بھی بن رہا ہے۔

مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت پہلگام واقعہ کی طرح کسی فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ پاکستان نے اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ طریقے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور یہ پیشکش آج بھی برقرار ہے لیکن بھارت نے ہماری اس تجویز کا کوئی جواب نہ دیا۔

آج معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے لیکن بھارت کی مودی سرکار پاکستان کے خلاف ایک بھی الزام کو ثابت نہ کر سکی اور دنیا بھر میں ہونے والی رسوائی و بدنامی کے باعث بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سفارتی محاذ پر امریکا سمیت عالمی برادری سے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے میں بری طرح ناکام رہے، جب کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر اپنا مقدمہ نہایت مہارت اور کامیابی سے لڑا جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت و وقار میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ بالخصوص پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم پاکستان کی متعدد مرتبہ تعریفیں کیں اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ امریکا اسرائیل ایران جنگ رکوانے اور اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے فیلڈ مارشل، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے سفارتی سطح پر جو غیر معمولی کوششیں کیں اور دوسرے مذاکراتی دور کے لیے یہ عمل اب بھی جاری ہے ۔

اسے صدر ٹرمپ برملا سراہتے ہیں۔ پاکستان کو آج سفارتی سطح پر جو شان دار کامیابی اور اعزاز ملا ہے وہ ’’بنیان المرصوص‘‘ کا مرہون منت ہے جیساکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے محکمہ اطلاعات سندھ حکومت کے زیر اہتمام کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ معرکہ حق صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ عزم و حوصلے کی بھی فتح تھی۔ ایک سال پہلے پاکستان غیر یقینی صورت حال کا شکار تھا، دشمن سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو توڑ اور ہرا سکتا ہے لیکن ہماری مسلح افواج نے جرأت، نظم و ضبط اور وقار کے ساتھ دفاع کیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کی یکجہتی کی جیت ہے۔‘‘ انھوں نے معرکہ حق کو پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب قرار دیا۔

مذکورہ کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے میں آپریشن عضب للحق کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے معاون انفرا اسٹرکچر کی تباہی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی غیر منطقی اور گمراہ کن پالیسی کے تحت خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر طالبان حکومت کو متعدد مرتبہ باور کرایا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو سپورٹ کرنا بند کر دے اور وعدے کے مطابق اپنی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، لیکن افغان طالبان نے سنی ان سنی کے مصداق بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان کے خلاف اپنی مذموم سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا جو خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ مجبوراً پاکستان کو افغانستان کے خلاف آپریشن عضب للحق کا آغاز کرنا پڑا اور پاک فوج صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے ٹریننگ کیمپوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اس ضمن میں برطانیہ اور طالبان رجیم کی جانب سے افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنانے کا پروپیگنڈا سراسر لغو و بے بنیاد ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ اس کے بعد بھی پاکستان آج تک دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے جس کے پیچھے ساری سازشیں مودی سرکار کی معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کا شاخسانہ ہے۔ مودی کو اپنے خودساختہ آپریشن سندور کا شرم ناک انجام یاد رکھنا چاہیے اگر مودی نے دوبارہ جارحیت کی تو پاک فوج اپنی طاقت و یکجہتی اور اپنی جنگی مہارت کے ذریعے پہلے سے زیادہ بھرپور قوت سے ایسا منہ توڑ جواب دے گی کہ مودی دوبارہ جارحیت کا سوچ بھی نہ سکے گا۔

Load Next Story