آبنائے ہرمز پر پھنسے ہزاروں بحری ملازمین کی دگرگوں حالت، بحری کپتانوں کا آنکھوں دیکھا حال

ملازمین آلو، پیاز، ٹماٹر روٹی جیسی  سادہ خوراک کھانے پر مجبور

تقریباً 10 ہفتوں سے ایرانی بندرگاہ پر 20 ہزار بحری کپتان سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں ایک انیش نامی بحری کپتان صورتحال کا آنکھوں دیکھا گواہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکا کی جانب سے "آپریشن ایپک فیوری" کا آغاز کرنے سے چند دن پہلے انیش ایک کارگو جہاز پر آبی گزرگاہ پر پہنچے تھے اور تب سے وہ خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انیش نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے یہاں پوری صورتحال کا سامنا کیا ہے، جنگ، میزائل اور  غذائی قلت وغیرہ۔

انیش نے کہا کہ ان کے کچھ ساتھی ایران کی 44 کلومیٹر زمینی سرحد عبور کر کے آرمینیا کے ذریعے گھر واپس جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن بہت سے باقی رہ گئے ہیں کیونکہ وہ ابھی تک ادائیگی کے انتظار میں ہیں۔

انیش نے بتایا کہ  ان میں سے کچھ اپنے ہندوستانی ایجنٹوں کی وجہ سے پھنس گئے ہیں کیونکہ انہیں اپنی تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ کیونکہ ایرانی ایجنٹ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو آرمینیا پہنچنے کے لیے ڈالر نہیں دے سکتے۔

انیش نے کہا کہ وہ آلو، پیاز، ٹماٹر روٹی جیسی  سادہ خوراک پر گزارہ کر رہے ہیں جبکہ دوسرے جہازوں پر اندیشہ ہے کہ کھانا اور پانی کم ہے۔

Load Next Story