ایچ آئی وی کی روک تھام کیلیے سخت سفارشات سامنے آگئیں

وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ٹاسک فورس نے ایچ آئی وی کے حوالے سے فوری عوامی آگاہی مہم پر زور دیا ہے

فوٹو: فائل

وزیراعظک کی جانب سے ای آئی وی کیسز کی روک تھام کے اقدامات کیلیے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس نے ڈی پورٹ ہونے والے مسافروں کی ایئرپورٹ پر اسکریننگ کی تجویز دی ہے۔

ترجمان وزارت صحت کے مطابق وزیراعظم نے رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیس کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی، جس کا کا دوسرا اجلاس وزیرِ مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں ہوا۔

اجلاس میں  میں ٹاسک فورس کے اراکین اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان جبکہ سابق معاونِ خصوصی  صحت ڈاکٹر ظفر مرزا،  میجر جنرل ریٹائرڈ اظہر محمود کیانی سابق کمانڈنٹ  آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی چیئر مین ٹاسک فورس، اسپیشل سیکرٹری داخلہ اسلام آباد، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ  ڈی جی ہیلتھ شریک تھے۔

اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کی ڈین ڈاکٹر سائرہ افضل، وی سی ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی خان، ماہر متعدی امراض ڈاکٹر صبیحہ قاضی جبکہ  صوبوں کے سیکریٹری صحت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں قومی ادارہ صحت،  ڈریپ  صوبائی محکمہ جات صحت، یو این ایڈز  کامن مینجمنٹ یونٹ کے  حکام بھی موجود تھے۔

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد معاملے کی تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سفارشات مرتب کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کو ہدایت دی گئی کہ آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے واقعات کی جامع تحقیقات کی جائیں، ٹاسک فورس کے اراکین اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کی ہیں۔

ٹاسک فورس نے تجویز دی کہ این آئی ایچ، سی ڈی سی اور سی ایم یو ڈیٹا کے ریئل ٹائم  نظام کو یقینی بنانے کیلئے ڈیش بورڈ فعال کرے، جس کے ذریعے ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی، رجحانات کا تجزیہ اور رابطہ کاری کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔

ٹاسک فورس کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نیشنل پبلک ہیلتھ لا کی  تیاری پر اتفاق کیا گیا ہے جس کے ذریعے غیر محفوظ طبی طریقوں کے باعث ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔

ٹاسک فورس نے بتایا کہ  متعدی امراض کے کنٹرول کو مزید مؤثر اور قابل عمل سفارشات مرتب کرنے کیلئے  جامع رپورٹ پیش کرنے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ آٹو ڈس ایبل سرنجوں کے استعمال میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے تاہم محفوظ طبی طریقوں کے مؤثر نفاذ میں اب بھی متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔

ٹاسک فورس نے ملک بھر میں انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول اقدامات کو مزید مضبوط بنانے  پر زور دیا جبکہ ملک بھر میں اسکریننگ کے عمل میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کی سفارش کی۔

ٹاسک فورس نے سفارش کی کہ طبی مراکز اور فارمیسیوں کی باقاعدہ انسپیکشن یقینی بنائی جائے، خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں،  دوبارہ استعمال کے قابل سرنجوں کی فروخت یا غلط لیبلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ٹاسک فورس نے کہا کہ مریضوں کی حفاظت کے پروٹوکولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی  بنائیں، ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر کمیشن ریگولیٹری نفاذ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

ٹاسک فورس نے تجویز دی کہ ضروری طبی سامان کی بروقت دستیابی یقینی بناین  تاکہ سرنجیں دوبارہ استعمال نہ ہوں،  ہائی رسک گروپس و متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنائیں۔

اجلاس میں ٹاسک فورس نے کہا کہ ایچ آئی وی کو نوٹیفائی ایبک یماریوں کی فہرست میں شامل کرکے  ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے،  ٹاسک فورس نے متعلقہ اداروں کو قابلِ عمل اور پائیدار اقدامات کے لیے واضح ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

ٹاسک فورس نے کہا کہ سرنجوں اور آئی وی سیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام کو  یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ  ایچ آئی وی سمیت دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے شواہد پر مبنی موثر  اقدامات کیے جائیں۔

ٹاسک فورس نے تجویز دی کہ اسپتالوں میں آپریشن سے پہلے ایچ آئی وی ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے جبکہ ڈریپ ملک بھر میں دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے خلاف سخت اور مؤثر کریک ڈاؤن کرے۔

ٹاسک فورس نے سفارش کی کہ ڈریپ کی جانب سے تمام میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی کڑی اور مسلسل نگرانی یقینی بنایا جائے، ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر کمشنز کو مکمل طور پر فعال، مستحکم اور بااختیار بنایا جائے۔

ٹاسک فورس نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا، ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کو گھر کی دہلیز پر ادویات اور معیاری میڈیکل سپورٹ کی  فراہمی کو ریاست یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ بارڈر ہیلتھ سروسز ڈی پورٹ ہونے والے افراد کی ایئرپورٹس اور انٹری پوائنٹس کی اسکریننگ کو یقینی بنائے۔

 

Load Next Story