اے ٹی ایم کی خرابی اور صارف کو ذہنی اذیت پہنچانے کے کیس میں نجی بینک پر 15 ہزار روپے جرمانہ
کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے اے ٹی ایم کی خرابی اور صارف کو ذہنی اذیت پہنچانے کے کیس میں نجی بینک پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔
درخواست گزار فراز فہیم ایڈووکیٹ کے مطابق 2019 میں رقم نکالنے کی کوشش کے دوران اے ٹی ایم نے رقم جاری نہیں کی جبکہ اسی دوران مشین نے اس کا کارڈ بھی ضبط کرلیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ رقم اور کارڈ نہ ملنے کے باعث اسے شدید شرمندگی، ذہنی اذیت اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ نکلوائی گئی رقم اور سروس چارجز صارف کو واپس کردیئے گئے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی طور پر سروس کے حصول کے لیے رقم کی کٹوتی اور مشین کی خرابی کے باعث کارڈ کی ضبطگی سروس میں کمی کے زمرے میں آتا ہے۔
نجی بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شکایت بینکاری قوانین اور پیمنٹ سسٹم اینڈ الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے تحت آتی ہے اور کنزیومر کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ رقم کی واپسی کے باوجود مالی نقصان ثابت نہیں ہوتا تاہم ذہنی اذیت، پیشہ ورانہ خلل اور وقت کے ضیاع کی تلافی ضروری ہے۔
عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نجی بینک کو درخواست گزار کو 15 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔