کراچی سے مختصر مسافت پر واقع خوبصورت بیچ

گڈانی اور سونمیانی کے درمیان میں موجود ساحلی مقام کے خوبصورت قدرتی مناظر ہر آنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں

کراچی اوربلوچستان کےسنگم پرواقع گڈان بیچ اورسونمیانی کے قدرتی مناظرسےلبریزساحلی مقام سیاحوں کی توجہ کامرکز بنتےجا رہے ہیں۔

شہرِقائد سے قلیل مسافت پرموجود یہ بیک وقت قدرتی حسن اورجدید تفریحی سہولیات کا حسین امتزاج پیش کررہے ہیں۔ نیلگوں پانی، سمندرکی ٹھاٹھیں مارتی پرشورلہریں، سرخ وزردی مائل پہاڑ دیکھنے والوں کوسحر میں جکڑ لیتے ہیں۔

ان ساحلی مقامات پرحالیہ ترقیاتی کام گرین ٹورازم پاکستان کے ثقافتی، تاریخی اورمذہبی مقامات سمیت غیردریافت شدہ خوبصورتی کودنیا بھرمیں متعارف کرانے کا تسلسل ہے۔

اگلےمرحلے میں ہاکس بےٹرٹل سےمتصل اوردیہی سندھ کےبلند ترین پہاڑی گورکھ ہل پراسٹیٹ آف دی آرٹ ریزروٹس کےمنصوبے کوحتمی شکل دی جارہی ہے۔

کراچی سےلگ بھگ 50کلومیٹر(ایک تا سوا گھنٹے کی مسافت) دوری پر واقع بلوچستان کے ساحلی مقامات گڈانی بیچ اورسونمیانی کا دامن قدرت کے بیش بہاحسین نظاروں سےبھرا پڑا ہے۔

نیلگوں پانی،سمندرکی ٹھاٹھیں مارتی شوریدہ سرلہریں، کہیں سرخی مائل، کہیں زردی مائل قدرتی پہاڑوں کے دامن میں واقع گڈانی بیچ کاسحرانگیز ساحل ہرآنے والےکو اپنے دل آویزحسن میں کھو جانے پرمجبورکردیتا ہے۔

گرین ٹورازم پاکستان منصوبے کےتحت اس مقام کوصحرامیں ایک نخلستان کی طرزپراس قدرجاذب نظربنادیاہے کہ جسے دیکھنے والا اس کے سحرمیں کھوجاتا ہے۔

گڈانی کے ساحل پر تعمیر کردہ ریزورٹ میں سیاحوں کوعالمی معیارکی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس سیاحتی مقام کےعین سامنے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں مختلف حجم کے دیو ہیکل بحری جہاز قطار در قطار لنگر انداز دکھائی دیتے ہیں۔

یہ منظراس ساحلی مقام کی خوبصورتی کو چارچاند لگارہا ہے۔ ایکسپریس نیوزسےگفتگو مینیجرحب ساوتھ محمد عمرکا کہناتھا کہ گڈانی اورسونمیانی کےساحلی مقامات پرمنصوبہ گرین پاکستان انیشیٹو کاحصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کےقدرتی وسائل، ساحلی خوبصورتی اورغیر دریافت شدہ مقامات کودنیا بھرمیں متعارف کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرین ٹورازم پاکستان نہ صرف سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،بلکہ ان ثقافتی،تاریخی اورمذہبی مقامات کوبھی اجاگرکررہا ہے جوطویل عرصے تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے، اس منصوبے کا مقصد پاکستان کوعالمی سطح پرایک پرکشش، پائیداراورمسابقتی سیاحتی ملک کےطورپرمتعارف کرانا ہے جبکہ بین الاقوامی سیاحوں کو پاکستان کے منفرد ساحلی حسن اور قدرتی مناظر کی جانب راغب کرنا بھی اس کا اہم ہدف ہے۔

گڈانی کےساحلی مقام کےانتظامی امور پر مامور بابراحمد کےمطابق یہاں دن بھر کی تھکان کے بعد قیام کےلیے آنے والےشہری اس مقام کی خوبصورتی سے متاثر دکھائی دیتے ہیں، خصوصا ڈوبتےسورج کا منظران کےلیے دیدنی ہوتا ہے۔

گڈانی کی طرزپربلوچستان کا ایک اورخوبصورت اوردل آویزساحل سونمیانی بھی اپنی منفرد خوبصورتی کےباعث سیاحوں کی توجہ حاصل کررہا ہے، ساحل پرجابجا بکھرے اور کہیں ریت میں دبے مختلف رنگوں کےبھاری بھرکم قدرتی پتھر، زرد پہاڑوں کو تراش کربلندی سےپستی کی جانب بنائے گئے زینے،اونچائی سےسمندرکنارے پہنچانےوالی الیکٹریکل ڈیزرٹ سفاری کا سفراس مقام کو منفرد بنا دیتا ہے۔

سمندرکے گہرے پانیوں میں ابھرتی چٹانیں اور شفاف پانی سونمیانی ساحل کے حسن کو چار چاند لگارہے ہیں، خوبصورتی کےاعتبار سے یہ مقام بھی گڈانی کےساحل سے کسی طورکم نہیں ہے۔

گرین ٹورازم منصوبےمیں وادی سندھ،گندھاراتہذیب، سکھ اور مغلیہ دورکی تاریخی عمارتوں،مذہبی ورثے،صحرا،جنگلی حیات اورقدرتی مناظرکو عالمی معیارکے مطابق اجاگرکرنےکاہدف رکھا گیا ہے۔

بین المذاہب اورمذہبی سیاحت کےفروغ کےذریعے پاکستان کے متنوع روحانی ورثےکودنیا بھرمیں متعارف کرایاجا رہا ہے جبکہ ایڈونچر،قدرتی اورتجرباتی سیاحت کے فروغ سے سیاحوں کو منفرد اور یادگار سفری تجربات فراہم کیےجا رہے ہیں تاکہ پاکستان عالمی سیاحتی نقشے پرایک نمایاں مقام حاصل کرسکے۔

بلوچستان اورسندھ کےساحلی علاقوں کی غیردریافت شدہ خوبصورتی کودنیا کے سامنے لاکر بین الاقوامی سیاحت کوفروغ دیا جا سکے۔

Load Next Story