سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کنٹرول اتھارٹی دو حصوں میں تقسیم، امتحانی معاملات مزید پیچیدہ ہوگئے
وفاق سے 126ارب روپے دینے کی درخواست کی، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار—فائل فوٹو
سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی کی دو حصوں میں تقسیم نے امتحانی بورڈز کے معاملات کو انتہائی پیچیدہ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہی سرکاری ادارے کو دو مختلف اتھارٹیز کنٹرول کریں گی کیونکہ 5 روز قبل ہی سندھ کابینہ نے ایک فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی کنٹرولنگ اتھارٹی کو تبدیل کرتے ہوئے اسے وزیر اعلی سندھ کو منتقل کردیا ہے۔
اس فیصلے سے پہلے تک چیئرمین سمیت ناظم امتحانات(کنٹرولر آف ایکزامینیشن) ، سیکریٹری بورڈ اور آڈٹ آفیسر کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر برائے بورڈز اینڈ یونیورسٹیز تھے تاہم فیصلے کے بعد اب متعلقہ وزیر صرف ناظم امتحانات، سیکریٹری بورڈ اور آڈٹ آفیسر کی کنٹرولنگ اتھارٹی تک محدود ہوگئے ہیں اور سندھ کے ہر تعلیمی بورڈ کو اب بیک وقت وزیر اعلی سندھ اور وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کنٹرول کریں گے۔
ہر چند کے اب تک اس فیصلے کے حوالے سے کابینہ اجلاس کے "منٹس" یا کوئی نوٹیفیکیشن سامنے نہیں آیا ہے لیکن تعلیمی حلقوں میں سوال یہ کیا جارہا ہے کہ اگر سندھ کابینہ یا صوبے کے بااثر حلقے وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے تو ان سے صرف چیئرمین بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی کیوں واپس لی گئی ہے باقی کلیدی عہدے اور پورا تعلیمی بورڈ ان کے پاس کیوں چھوڑ دیا گیا۔
قابل زکر امر یہ ہے کہ تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی کی تقسیم ایک ایسے وقت میں کی گئی یے جب سندھ کے تقریبا تمام تعلیمی بورڈز عمومی طور پر جبکہ میرپورخاص اور میٹرک بورڈ کراچی بالخصوص اسکینڈلز کی ذد میں ہے کنٹرولر میرپورخاص بورڈ امتحانی نتائج میں رد وبدل سمیت دیگر الزامات کے ساتھ محکمہ اینٹی کرپشن کی حراست میں ہے۔
ان کے انکشافات کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن تعلیمی بورڈز کے افسران کے ساتھ ساتھ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے افسران پر رشوت کی رقم کے کے لین دین کے الزامات پر مبنی خطوط جاری کرچکا ہے جس میں تعلیمی بورڈز سے محکمہ کو 20 کروڑ روپے کی رقم تحائف کے طور پر دینے کے الزامات موجود ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے کچھ افسران اس سلسلے میں عدالت جاکر اپنی ضمانتیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔ ادھر میٹرک بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں کے امتحانات میں بدانتظامیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں سینٹر فیکسیشن اور ازاں بعد دوران امتحانات 100 سے زائد امتحانی مراکز کی تبدیلی کی خبروں کی تحقیقاتی کمیٹی نے تصدیق کردی ہے اسے ناجائز قرار دیا ہے اور چیئرمین و کنٹرولر کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش تک کردی ہے۔
ادھر چیئرمین میٹرک بورڈ یہ رپورٹ سامنے آتے ہی مستعفی ہوچکے ہیں اور اب اطلاع یے کہ کسی حتمی فیصلے تک میٹرک بورڈ کراچی کا چارج کسی حاضر سروس بیوروکریٹ کو دیا جارہا ہے نام نا بتانے کی شرط پر سندھ کے ایک اعلی انتظامی/تعلیمی افسر نے اس فیصلے کی تصدیق بھی کی ہے۔
بورڈ کی دہری اتھارٹی کے معاملے پر متعلقہ افسر کا کہنا تھا کہ شاید یہ کام کچھ عجلت میں ہوگیا یے لیکن یہ معاملہ زیادہ دن نہیں چل سکے گا کیونکہ جامعات کی سطح پر ایسا نہیں ہے اور جامعات کو مکمل طور پر وزیر اعلی سندھ خود اپنے سیکریٹریٹ اور محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔
خود وزیر اعلی سندھ اور ان سے منسلک پورے سیکریٹریٹ کے حکام یہ جانتے ہیں کہ سندھ میں تعلیمی بورڈز کی تباہی بترریج یا رفتہ رفتہ ہوئی ہے جب گورنر سندھ کنٹرولنگ اتھارٹی ہوا کرتے تھے تو اس طرح کے اسکینڈل شاذ و نادر ہی سنے کو ملتے تھے جبکہ فوری کارروائی بھی ہوجایا کرتی تھی اس وقت میٹرک سسٹم پر لوگوں کا اعتماد بھی تھا۔
جب یہ کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی کو منتقل ہوئی تو کچھ عرصے تک تو معیارات جوں کے توں ہی رہے لیکن رفتہ رفتہ اس میں تنزلی آتی رہی تاہم جب خود وزیر اعلی سندھ نے اپنے اختیارات متعقلہ وزارت بناکر اس کو تفویض کیے تو امتحانی نظام شرمناک حد تک گرگیا۔
ادھر مزید ایک افسر نے بتایا کہ وزیر اعلی سندھ کو محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی اور چیئرمین حیدرآباد بورڈ کے استعفی پر مشتمل سمریز موصول ہوچکی ہیں لہذا استعفے منظور کرکے ان عہدوں پر جلد عارضی چارج دیے جارہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کا استعفی بھی منظور پوسکتا ہے کیونکہ خود چیئرمین حیدرآباد بورڈ متعلقہ وزارت کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ کنٹرولنگ اتھارٹی کی فی الحال جزوی منتقلی ہوئی ہے مکمل منتقلی ابھی باقی ہے۔