عراق میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا
ایران کے خلاف امریکی اسرائیل جنگ کے دوران عراق میں اسرائیل کے ایک خفیہ فوجی اڈے کے انکشافات نے عراق میں کھلبلی مچا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی میڈیا کی جانب سے اڈے کے بارے میں تفصیلات ظاہر ہونے کے بعد عراقی حکام نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
دو عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران عراق کے صحرا میں ایک پرانے ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہوئے ایک فوجی اڈہ قائم کیا۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔
The open-source intelligence people have already identified the dry lake bed, 40 miles from the nearest road, deep in the Iraqi desert, that the Israeli Air Force used as a forward operating base. It was clearly more than an emergency strip; it was a full refueling and rearming… https://t.co/6zwXdUU7gD pic.twitter.com/saJ0pzAKdL
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو ملک کے جنوب مغربی حصے میں صحرائے نجف میں پایا گیا اور ان کی عراقی افواج سے جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے صحرائے نجف میں ایک ترک شدہ فضائی پٹی میں ایک اڈہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہاں افواج نہیں ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے سامان چھوڑ دیا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی آپریشن امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں تھا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ افواج کتنی دیر تک وہاں موجود رہیں یا ان کا مشن کیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی اے ایف پی کی جانب سے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔