’پراپرٹی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے،‘ دوسری شادی کی بنیاد پر بچے کی حوالگی سے متعلق درخواست مسترد
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ صرف خاتون کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی تبدیل نہیں کی جا سکتی، جبکہ عدالت نے بچے کی حوالگی چچا یا پھوپھی کو دینے کی درخواست مسترد کردی۔
وفاقی آئینی عدالت میں 9 سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ چچا اور پھوپھی بچے کی حوالگی کیوں چاہتے ہیں؟ کیا حوالگی مانگنے والوں نے کبھی پوچھا کہ بچے کی تعلیم کیسی چل رہی ہے؟
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ماں نے دوسری شادی کر لی ہے، اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ صرف خاتون کی دوسری شادی کو جواز بنا کر بچے کی حوالگی کیسے دی جا سکتی ہے۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ماں نے بچے کو باپ سے ملنے والا حصہ فروخت کر دیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیا بچے کو اس کے باپ سے ملنے والا حصہ بھی واپس لینا چاہتے ہیں؟ ماں کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائی گئی، جبکہ ماں جب عدت میں تھی اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماں کے خلاف بغض اور عناد روا رکھا گیا، گارڈین کورٹ سے اجازت لے کر ہی ماں نے حصہ بیچا ہوگا۔ ویسے بھی عدالت کے سامنے کیس صرف حوالگی کا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے بچے کے مفاد کے بجائے پراپرٹی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی ماں کو حوالگی سے متعلق تمام عدالتوں نے فیصلہ برقرار رکھا اور بچے کی ماں کو حوالگی قانون کے مطابق ہے۔
عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ والد کی وفات کے بعد نو سالہ بچے کی حوالگی ماں کو دی گئی تھی۔