وفاقی آئینی عدالت التوا مانگنے والے وکلا پر شدید برہم، سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار کی سرزنش
فوٹو: فائل
وفاقی آئینی عدالت نے التوا مانگنے والے وکلا کی روش پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور کی سرزنش کی۔ دورانِ سماعت سلمان منصور نے کہا کہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ جمع کرانا چاہتا ہوں، مہلت دی جائے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ ہی کیوں نہیں جمع کرائی، یہ بنیادی کام نہیں کیا گیا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کسی دوسرے ملک میں ایسا کرتے تو آپ کو بھاری جرمانہ ہوتا، عدالت میں التوا مانگتے ہیں باہر تقاریر کرتے ہیں کہ ججز کام نہیں کرتے۔ سلمان منصور نے جواب دیا کہ میں تقاریر نہیں کرتا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب سیاست آتی ہے تو سب ہی تقاریر کرتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ مقدمات ملتوی ہونے کی 90 فی صد وجوہات وکلا خود ہوتے ہیں۔ ہم ساری رات فائلیں پڑھتے ہیں، صبح التوا مانگ لیا جاتا ہے۔ تمام متعلقہ دستاویزات اپیل کےساتھ لگانا بنیادی کام تھا، جو نہیں کیا گیا۔
عدالت نے اس معاملے پر وکلا کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ سلمان منصور غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں برطرفی کے کیس میں پیش ہوئے تھے۔