سندھ ہائیکورٹ میں شہر میں غیر قانونی جینٹری اور بل بورڈز کی تنصیب کے خلاف پٹیشن دائر کر دی گئی
سندھ ہائیکورٹ میں شہر میں غیر قانونی جینٹری اور بل بورڈز کی تنصیب کے خلاف پٹیشن دائر کر دی گئی۔
شہری نے عوامی مقامات پر جینٹری بورڈز لگانے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے، پٹیشن میں میئر کراچی، کمشنر کراچی، صدر ٹاؤن، کراچی ٹریفک انجینئرنگ بیورو سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت نے درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 اگست تک جواب طلب کر لیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میٹروپول ہوٹل، شاہراہ فیصل، پنجاب چورنگی سمیت مختلف مقامات پر بورڈز غیر قانونی طور پر نصب کیے گئے ہیں۔
درخواست کے مطابق عوامی جگہوں پر قبضہ اور کمرشل استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایڈوکیٹ نواز ڈاہری نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں عوامی املاک پر بل بورڈز کی تنصیب سے واضح طور پر روک چکی ہے۔
ایڈوکیٹ نواز ڈاہری کے مطابق عدالتی حکم کے باوجود ادارے میونسپل اجازت ناموں کی آڑ میں کمرشل جینٹری کی تنصیب میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ضلع جنوبی میں فٹ پاتھوں اور عوامی املاک پر کمرشل جینٹری ایڈورٹائزمنٹ اسٹرکچرز کی تنصیب کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ نامزد فریقین کو متنازع جینٹری بورڈز کی جاری تعمیر اور تنصیب فوری روکنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں ٹی ایم سی صدر کی حدود میں نصب تمام ایڈورٹائزمنٹ اسٹرکچرز ہٹانے اور مسمار کرنے کا بھی حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔