کام کے اوقات میں اضافے سے موٹاپے کے خطرات میں بھی اضافہ

یہ تحقیق یورپین کانگریس آن اوبیسٹی 2026 میں پیش کی گئی

ایک نئی تحقیق کے مطابق خراب ورک لائف بیلنس وزن کم رکھنے کی کوشش کو مشکل بنا سکتا ہے جبکہ زیادہ دیر تک کام کرنے والے افراد میں موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دفتر کی کرسی پر زیادہ وقت گزارنے کا مطلب اکثر ورزش کے لیے کم وقت بچنا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ طویل اوقاتِ کار ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں جبکہ جسم میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ دونوں عوامل وزن میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں۔

آسٹریلیا کی ڈاکٹر پرادیپا کوریل-گیدارا (جو اس تحقیق کی سربراہ مصنفہ ہیں) نے بتایا کہ جب لوگوں کی زندگی میں توازن ہوتا ہے تو ان کی مجموعی زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔ وہ کم ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، زیادہ غذائیت بخش خوراک پر توجہ دیتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں میں بھی زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

یورپین کانگریس آن اوبیسٹی 2026 میں پیش کی گئی اس بین الاقوامی تحقیق میں 1990 سے 2022 تک برطانیہ سمیت 33 OECD ممالک میں کام کے اوقات اور موٹاپے کی شرح کا موازنہ کیا۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ امریکا، میکسیکو اور کولمبیا جیسے ممالک (جہاں سالانہ کام کے اوقات زیادہ ہیں) وہاں موٹاپے کی شرح بھی زیادہ دیکھی گئی۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر سالانہ کام کے اوقات میں صرف 1 فی صد کمی کر دی جائے تو موٹاپے کی شرح میں اوسطاً 0.16 فی صد کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

یعنی معمولی سا کم کام اور تھوڑا زیادہ ذاتی وقت بھی لوگوں کی صحت اور وزن پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

Load Next Story