محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمان کی ملکی صورتحال، آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی

فوٹو: اسکرین گریب

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور جعمیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مہنگائی، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورت حال اور ملکی صورت حال پر مشترکہ مؤقف اپنانے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی۔

اپوزیشن تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ میں ملاقات کی اور اس دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی و معاشی، علاقائی صورت حال، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورت حال اور دیگر اہم قومی ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی و معاشی حالات میں مشترکہ مؤقف اپنانے، عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ چلنے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی۔

اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران محمود خان اچکزئی نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ نہیں بنے گی اور آزادانہ فیصلے نہیں کرے گی، غریب عوام کے حالات نہیں بدلیں گے اور جب تک صوبوں کو ان کے اپنے وسائل پر مکمل اختیار نہیں ملتا، ملک میں بدامنی اور گڑبڑ ختم نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں سمیت روزانہ 80 سے 90 افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، امریکا میں ایک جان کے ضیاع پر پورا ملک کھڑا ہو جاتا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بجٹ کے حوالے سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل پر کام کر رہی ہیں، مہنگائی، بدمعاشی اور دہشت گردی کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پارلیمنٹ کو طاقت ور کیا جائے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے ہم سب ذمہ دار ہیں، جو چیزیں 18ویں ترمیم کے تحت طے شدہ فیصلوں کو چھیڑنا انتہائی خطرناک ہوگا، یہ فیصلے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی، آئین کی بحالی اور حقیقی جمہوری حکومت کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر 18ویں ترمیم کی طرز پر متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا اور اس کا علاج کرنا ہوگا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان خدا نخواستہ بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔

Load Next Story