خود احتسابی بھی ضروری ہے

آج سے ایک سال پہلے صورتحال بہت مختلف بلکہ تشویشناک تھی۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی حکمرانوں خصوصاً نریندر مودی کا روّیہ انتہائی حقارت آمیز تھا۔

آج سے ایک سال پہلے صورتحال بہت مختلف بلکہ تشویشناک تھی۔ پاکستان کے بارے میں بھارتی حکمرانوں خصوصاً نریندر مودی کا روّیہ انتہائی حقارت آمیز تھا۔ دنیا کی چوتھی بڑی اکانومی ہونے کے باعث اس کا غرور اور تکبّر آسمانوں کو چھورہا تھا۔ کچھ غلط پالیسیوں، کمزور معیشت اور سیاسی عدمِ استحکام کے باعث دنیا میں پاکستان کا نام اور مقام بہت نچلی سطح تک آچکا تھا۔

ملک کے اندر بھی ہر سطح پر ’’اپنی کمزوری‘‘ کے بیانئے کو ہی اُچھالا جاتا تھا، ماضی کے کچھ سول اور عسکری لیڈروں کا انداز مدافعانہ اور میڈیا کا کردار فدویانہ سا تھا، کسی بھی سطح پر کوئی اینکر یا تجزیہ کار اس سوال کو ہی سنجیدگی سے لینے پر تیار نہیں ہوتا تھا کہ اب کسی ممکنہ جنگ میں پاکستان، بھارت کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ تمام تر مغربی مبصرین کا بھی یہی خیال تھا اور خود بھارتی حکمرانوں کو یہی توقع تھی کہ پاکستان بھارتی حملے کی تاب نہیں لاسکے گا اور فوراً شکست تسلیم کرلے گا۔

مگر کائناتوں کے خالق اور مالک کے منصوبے کچھ اور تھے، اسے اپنے نام پر قائم ہونے والے ملک کی رسوائی گوارا نہ تھی۔ اس نے احساسِ کمتری کی ماری ہوئی پاکستانی قوم کو زندہ کرنے اور ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ میں نے اس وقت بھی لکھا تھا کہ ’’ پاکستان کو ختم کرنے کا ارادہ لے کر نکلنے والے ہندوستان کے پاس رافیل جیسے دنیا کے بہترین طیّارے اور بہترین ٹیکنالوجی تھی اور وہ صدیوں پہلے بدر کی جانب بڑھنے والے مشرکینِ مکّہ کی طرح پراعتماد تھے کہ لڑکھڑاتی ہوئی معیشت والا پاکستان چند گھنٹے کی مار ہے۔ مگر ربِّ کائنات نے ہر ہتھیار اور ہر ٹیکنالوجی کے توڑ کا بندوبست کرلیا تھا۔ دشمنوں کے رافیل کے مقابلے میں شاہینوں کے J10cp فضاؤں میں بلند ہوئے، جن سے ریڈار پر نظر نہ آنے والے (BVR) میزائل، موت بن کر نکلے اور پہلے تین گھنٹوں میں ہی رافیل سمیت دشمن کے پانچ جہازوں کو تباہ کر ڈالا۔ شاہینوں نے پہلے دن ہی بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ دشمن کو اپنے اربوں ڈالر کے روسی ائیرڈیفنس سسٹم AS400 پر بڑا ناز تھا۔ پاک آرمی کے فتح میزائل اور پاک فضائیہ کے میزائیلوں نے AS400 کو تہس نہس کر ڈالا اور دشمن پر ایسی دھاک بٹھادی کہ پھر دشمن کے جہاز فضاء میں بلند ہونے کی بھی ہمّت نہ کرسکے۔ آخری 24 گھنٹوں میں مقبوضہ کشمیر کی فضاؤں پر صرف پاکستان کے طیارے گھوم رہے تھے اور مقابلے پر کوئی بھارتی طیارہ زمین سے اڑنے کی بھی جرأت نہ کرسکا۔ سلام ہے ملک کی برّی اور ہوائی افواج کے ان افسروں اور جوانوں کو، جن کی وجہ سے قوم کا کھویا ہوا وقار بحال ہوا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل پاکستان کی فتحِ مبین پر مسرّت وافتخار سے سرشار ہوئے ۔‘‘

ہر بحران سے مواقع پھوٹتے ہیں اور جنگ سے برکتیں بھی جنم لیتی ہیں۔ پچھلے سال کی جنگ نے مسائل اور پریشانیوں میں گھرے ہوئے پاکستان کا مقام اور مرتبہ زمین سے آسمان تک پہنچادیا، بھارت کا تکبر اور احساسِ برتری مٹی میں ملادیا، بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے ناقابلِ شکست ہونے کے myth کو توڑ کر رکھ دیا، نیل کے ساحل سے کاشغر تک، انڈونیشیا سے بوسنیا تک اور فلسطین سے کشمیر تک کروڑوں مسلمانوں کو ایک مسلم ملک کی فتحِ مبین کے باعث مسرت وافتخار سے سرشار کردیا، دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کو سر اونچا کرکے چلنے کے قابل بنادیا ہے، اور پوری دنیا کو اور خصوصاً پاکستان کی نئی نسل کو اچھی طرح باور کرادیا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت پاکستان کی ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں کرسکتی، پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور یہ انشاء اللہ قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔ اس جنگ میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھانے والوں کو بڑا تسلّی بخش جواب مل گیا ہے۔

جنگ میں پاکستان کی برتری نے عالمی منظر نامہ بھی تبدیل کردیا، پورا مشرقِ وسطیٰ اور یورپ ہی نہیں امریکی قیادت بھی اسے غیر معمولی عزّت اور قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگی، امریکی وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے سپہ سالار کے لیے دستر خوان بچھا دیے گئے اور عرب بادشاہ اپنی سیکیوریٹی کے لیے پاکستان کے پیچھے پیچھے پھرنے لگے۔ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ جس خالق ومالک نے اپنی خاص مدد سے پاکستان کو فتحِ مبین عطا کرکے بے پناہ عزت بخشی ہے، پوری پاکستانی قوم کو اُس کے سامنے سر جھکا دینا چاہیے، اپنی خامیوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرنی چاہیے اور آیندہ زندگیوں کو اس کے احکامات کے عین مطابق گذارنے کا پختہ عہد کرنا چاہیے۔ قدرت کی طرف سے بخشے گئے اس موقع کا درست استعمال کرکے ہم پاکستانیوں کو ایک اعلیٰ معیار کی قوم بناسکتے ہیں، لیکن اگر یہ موقع ضایع کردیا تو پھر کسی بڑی آزمائش سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ کئی بار کہہ چکا ہوں اورآج پھر دہراتا ہوں کہ ہر بحران کی کوکھ سے کارآمد مواقع (opportunities) جنم لیتے ہیں اور جنگ کے نتیجے میں قومیں بنتی بھی ہیں اور فنا کے گھاٹ بھی اتر جاتی ہیں۔ پاک بھارت جنگ میں فتح سے پاکستان میں ایک نئی قوم نے جنم لیا ہے، ایک پُراعتماد، بہادر، غیرت مند، خوددار، اپنے دست وبازو پر بھروسہ کرنے والی اور اپنے مستقبل کے بارے میں پرامید قوم۔ اِس فتح نے پاکستان کو ایک تاریخی موقع عطا کیا ہے جسے بروئے کار لاکر ہم قوم کے اندر پائے جانے والے حُب الوطنی کے جذبے کو قومی یکجہتی میں ڈھال سکتے ہیں اور اس ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں میں رہنے والے باشندوں کو ایک متحد اور مضبوط قوم میں تبدیل کرسکتے ہیں، اور یہی ہمارا سب سے بڑا ہدف ہونا چاہیے۔

گزشتہ سال ہماری بہادر افواج نے چھ گنا بڑی افواج کو شکست دے کر ملک کا نام اور مقام بلند کیا، بلاشبہ ہمیں اپنی بہادر اور پیشہ ورانہ امور کی ماہر افواج پر فخر ہے اللہ تعالٰی انھیں ہمیشہ فتح سے ہمکنار کریں ، اسی فتح کے باعث ایک سپر پاور نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ایران سے اس کے معاملات طے کرائے، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں دنیا کو عالمی جنگ سے بچانے اور متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا اعزاز پاکستان کے حصّے میں آیا ہے، جس پر سیاسی اور عسکری قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔

ڈیفنس اور ڈپلومیسی میں پاکستان کا دنیا بھر میں ڈنکا بج رہا ہے مگر ملک کے اندر نظر ڈالیں تو عوام کے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ حکمرانوں کے طرزِ زندگی میں سادگی نہیں اسراف ہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، پٹرولیم مصنوعات کی بلا جواز قیمتیں بڑھا کر صرف نچلے طبقے ہی نہیں، مڈل کلاس کا بھی جینا دُوبھر کر دیا گیا ہے ، عوام بیچارے پس رہے ہیں ، چاروں صوبوں میں صرف اشرافیائی ٹولہ خوش ہے جب کہ عام آدمی کے لیے کچن چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

9 اور 10 مئی کو معرکۂ حق یا پاکستان کی فتح کی ہر شہر میں سالگرہ منائی گئی، تقایر ہوئیں، جو اچھی چیز ہے، البتہ ان تقاریر میں خود احتسابی کی باتیں بھی ہوتی تو سونے پر سہاگہ ہوتا ، یہ تسلیم کیا جانا چاہیے تھا کہ ملک کو معاشی مشکلات درپیش ہیں، عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں ۔ اس وقت ملک کو سب سے زیادہ امن اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں ہمیں فتح صرف ربِ ذوالجلال کی مدد اور اس کے خاص فضل اور کرم سے ملی ہے لیکن اگر ہم نے تکبر اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا اور ملک کی معیشت و سیاسی کے استحکام پر توجہ نہ دی تو تو ہم خالق ِکائنات کی رحمت اور مدد سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہونا چاہیے۔

Load Next Story