امریکا کا بھارتی آن لائن فارمیسی کے خلاف بڑا ایکشن، 13 افراد پر ویزا پابندیاں عائد
امریکا نے بھارت کی ایک آن لائن فارمیسی کمپنی سے وابستہ 13 افراد پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ جعلی ادویات فروخت کرنے والے ایک نیٹ ورک سے منسلک تھے جن میں خطرناک منشیاتی مادہ فینٹانائل شامل تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ یہ افراد بھارتی کمپنی ’کے ایس انٹرنیشنل ٹریڈرز‘ اور اس کے مالک کے قریبی ساتھی ہیں۔ مذکورہ کمپنی بھارت سے آن لائن فارمیسی کا کاروبار چلاتی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی جعلی نسخہ جاتی گولیاں فروخت کر رہی تھی جن میں فینٹانائل شامل تھا۔ فینٹانائل ایک انتہائی طاقتور مصنوعی اوپیئڈ دوا ہے جو درد کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن امریکا میں اس کے غیر قانونی استعمال کے باعث ہزاروں اموات ہو چکی ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس پگٹ نے بیان میں کہا کہ غیر قانونی فینٹانائل بہت زیادہ امریکیوں کی جان لے رہا ہے، جو لوگ امریکی عوام کو زہر دینے میں ملوث ہیں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق ممبئی میں قائم کے ایس انٹرنیشنل ٹریڈرز کی ویب سائٹ بھی قابل رسائی نہیں رہی، جبکہ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے نام یا رابطہ معلومات بھی دستیاب نہیں ہو سکیں۔
Today, @StateDept is taking steps to impose visa restrictions on 13 individuals associated with KS International Traders and its owner, which has sold counterfeit prescriptions laced with illicit fentanyl to unsuspecting Americans in our country.
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ کمپنی فینٹانائل کی اسمگلنگ کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ پہلے ہی فینٹانائل کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دے چکے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب امریکی حکومت نے اس کمپنی کے خلاف کارروائی کی ہو۔ گزشتہ سال بھی کے ایس انٹرنیشنل ٹریڈرز اور دو بھارتی شہریوں پر جعلی فینٹانائل گولیاں سپلائی کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
.@POTUS: “So we designated fentanyl a weapon of mass destruction [and] conducted numerous successful military strikes against narco terrorists operating in our hemisphere.” pic.twitter.com/3VeMtUQdhP
امریکی حکام کے مطابق کمپنی نے امریکا میں لاکھوں جعلی گولیاں فروخت کیں، جس سے کئی خاندان اور کمیونٹیز متاثر ہوئیں۔ امریکا نے گزشتہ سال فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے نئی ویزا پابندی پالیسی بھی متعارف کرائی تھی۔
Load Next Story