پاکستان کے حوالے سے اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں،وزیر دفاع
فوٹو: فائل
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان، تمام صوبوں اور ملک کی بقاء کی جنگ ہے، پاکستان کے خلاف جنگ کا بل حکومت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے،پاکستان کے حوالے سے اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں، پاکستان کی مسلح افواج بلتستان سے لیکر گوادر تک پاکستان کیلئے شہادتیں دے رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین کے اٹھائے گئے نکات کاجواب دیتے ہوئے وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے معاملہ پروفاق خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہے، نقصان ہمارا ایک ہے۔
پاکستان نے کابل حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کئے ہیں مگروہ اپنی سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالہ سے کسی قسم کے تحریری تعاون کیلئے تیارنہیں ہے۔
اس وقت افغانستان کی حکومت بھارت اور ہندواتواکی پراکسی بن گئی ہے،معرکہ حق میں شکست کے بعدبھارت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان کے خلاف براہ راست تصادم کی جرات نہیں کرے گا، اب پاکستان کے خلاف ساری جنگ کابل حکومت کے ذریعہ لڑی جارہی ہے۔
وزیردفاع نے کہاکہ افغانستان کی پشت پناہی اور سہولت کاری سے پاکستان کی سرزمین پردہشت گردی ہورہی تھی،اس ماحول کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے ساتھ گفت و شنید اور مذاکرات کئے جس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
وزیردفاع نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے رابطے کی کوششیں ہورہی ہوں ہم اس کے حوالہ سے حتمی بات نہیں کر سکتے۔ وزیردفاع نے کہاکہ دہشت گردی کے معاملہ پرطویل عرصہ تک ہمیں خیبرپختونخوا حکومت کاتعاون میسرنہیں تھا تاہم اب یہ تعاون فراہم کیاجارہاہے،یہ اچھی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سارے ایک صفحہ پرہوں۔
وزیر دفاع نے کہاکہ پاکستان نے پوری دیانت داری کے ساتھ تین ملکوں ترکیہ،قطر اور سعودی عرب کے ذریعہ کوششیں کی ہیں اور منت کی ہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں،دہشت گردوں کی تنصیبات، کیمپوں کوختم کیا جائے اور ان کی سہولت کاری کاسلسلہ روک دیا جائے لیکن وہ اس بات کی طرف نہیں آتے۔
اس کاایک مطلب نکلتا ہے کہ تنگ آمدبہ جنگ آمد،پھرتوجنگ ہی ہوگی،چاہے مشرقی سرحد ہو یامغربی سرحد، ایک ہی دشمن بیٹھا ہے اور اس میں کوئی تفریق نہیں ہے،اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
ہماری خواہش ضرورہے کہ یہ تفریق ہو اور وہ ہمارے ساتھ بات چیت کرے اور ایسے انتظامات کئے جائیں جس سے دہشت گردی کاسدباب ہوسکے،لیکن اگروہ اس کیلئے تیارنہیں ہے تو جودہلی کے ساتھ کیاہے وہی کابل کے ساتھ بھی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے موضوع پراگرایوان میں مباحثہ ہوتا ہے تو اس کیلئے وقت مقررکیا جاسکتا ہے۔
وزیردفاع نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج بلتستان سے لیکرگوادر تک پاکستان کیلئے شہادتیں دے رہی ہے، سیاسی فائدہ کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے بات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ کل ایک لیفٹیننٹ کرنل شہید ہواہے، فوج کی شناخت پاکستان ہے۔
تین ماہ پہلے تک خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی پرکوئی تعاون فراہم نہیں کیا گیا، اپوزیشن کے اراکین کو معرکہ حق کی تقریبات میں دعوت دی گئی مگران تقریبات میں کوئی نہیں آیا۔
وزیردفاع نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان، تمام صوبوں اور ملک کی بقاء کی جنگ ہے،اس ایوان سے صوبائیت کے نام آوازیں اٹھائی جائیں گی تو درست نہیں ہے، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شناخت صرف پاکستان ہے۔